ہر طرف غموں کے انگنت امبار دیکھتے ہیں
Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, mirpurkhasہر طرف غموں کے انگنت امبار دیکھتے ہیں
ہر کوئی رنج والم میں مبتلا گرفتار دیکھتے ہیں
ہرطرف دیکھتے ہیں چہرے افسردہ افسردہ سے
ہر ذھن شکست خوردہ نا خوشگوار دیکھتے ہیں
خدا جانے خوشیوں کو کس کی نظر لگ گئی
عید پر بھی ماحول کچھ نا سازگار دیکھتے ہیں۔۔۔
کیا یہ غربت کے کارن ھے یا پھر کوئی اور وجہ
بہر حال ایک ان چاھا سا مسلط آزار دیکھتے ہیں۔۔۔
ہر ایک اپنا منہ لیے بیٹھا ھے کونے میں۔۔۔
اس ٹج کے کارں رشتوں میں دراڑ دیکھتے ہیں۔
چھوٹے بڑوں کا ادب مانو بھول سے گئے ہیں۔۔۔
گو ہر طرف گستاخی کا گرم بازار دیکھتے ہیں۔
اب کوں جائے کس کی طرف فرصت کہاں کسے۔
یعنی آپ خود میں محدود ہر دوست یار دیکھتے ہیں
نفسا نفسی کا دور ھے اسد جہوں جس طرف دیکھو۔
ہر کوئی خود سے تنگ یعنی بے زار دیکھتے ہیں۔
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







