ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی
Poet: Wasi Shah By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی
ہے تم سے بس یہی کہنا محبت مر نہیں سکتی
ترا ہر بار مرے خط کو پڑھنا اور رو دینا
مرا ہر بار لکھ دینا، محبت مر نہیں سکتی
کیا تھا ہم نے کیمپس کی ندی پر اک حسیں وعدہ
بھلے ہم کو پڑے مرنا، محبت مر نہیں سکتی
جہاں میں جب تلک پنچھی چہکتے اڑتے پھرتے ہیں
ہے جب تک پھول کا کھلنا، محبت مر نہیں سکتی
پرانے عہد کو جب زندہ کرنے کا خیال آیا
مجھے بس اتنا لکھ دینا، محبت مر نہیں سکتی
وہ تیرا ہجر کی شب فون رکھنے سے ذرا پہلے
بہت روتے ہوئے کہنا، محبت مر نہیں سکتی
اگر ہم حسرتوں کی قبر میں ہی دفن ہو جائیں
تو یہ کتبوں پہ لکھ دینا، محبت مر نہیں سکتی
پرانے رابطوں کو پھر نئے وعدے کی خواہش ہے
ذرا اک بار تو کہنا، محبت مر نہیں سکتی
گئے لمحات فرصت کے کہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں
وہ پہروں ہاتھ پر لکھنا، محبت مر نہیں سکتی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






