ہنسے وہ میرے دل پہ اور
Poet: Ahmad Faisal Ayaz By: Ahmad Faisal AYAAZ, HAFIZABADاس سادگی میں تغیر کا سبب کیا ہے
سخن بے ادب ہے تو ادب کیا ہے
ہماری بات بھی تو نہ پہنچی ان تلک
پھر بھی خفا ہیں یہ غضب کیا ہے
چاند بھی دکھاتا ہے سب داغ اپنے
جو ہم نے دکھائے تو عجب کیا ہے
مسرور ہوتے ہیں جو خوشی کے نشے میں
نہ جانتے ہیں کہ دل کا کرب کیا ہے
شناسا ہے ان کی خصلت سے پھر بھی
سوچتے ہیں کہ موجب حرب کیا ہے
ہم نے دکھائی ہے محبت دنیا بھر سے
ہم بھی کہتے ہیں عجم و عرب کیا ہے
ہنسے وہ میرے دل پہ اور کہا عیاز
تیرے دل کے رونے کاسبب کیا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






