ہے ضبط کی اس میں طاقت والله
Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisburg pa usaہے ضبط کی اس میں طاقت والله
وگرنہ کیا کیا نہ دیکھاتے یہ نظارے آنسو
ٹھیس لگتی ہے تو جگر دل سے گلے لگ جاتا ہے
اگر ہوتے ہم نازک تو کیا بھر نہ آتے ہمارے آنسو
تنہائی میں یادوں کی جو ہمیں ضرب لگتی ہے
درد ہوتا ہے تو ڈھونڈتے ہیں سہارے آنسو
کون کہتا ہے کہ انہیں بہا کے ضائع کردیں
یہ تو چہیتے میرے دردوں کے پیارے آنسو
ڈر ہے اک دن راز کھل نہ جائے کہیں
سہمے رہتے ہیں یہ کچھ سوچ کے بچارے آنسو
پھترائی ہیں یہ اب جینے کا مزا آئے گا
اظہارے حال کہاں سے کریں گے بھلا قسمت کے مارے آنسو
شکستہ دل کے کہاں بہنے کا کہا مانے گے
اک نہیں کہتا یہ کہتے ہیں سارے آنسو
یہ کر منڈلا بھی آئے قلزم انہیں مت بہنے دینا
ورنہ پڑ جائیں گے سمندر پے یہ بھارے آنسو
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






