یوں نہ کبھی محبت میں عداوت ہوتی
Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahoreیوں نہ کبھی محبت میں عداوت ہوتی
کاش ایسی نہ میری قسمت ہوتی
محبت ہی میں رہ کر جیتی رہتی مَیں
محبت ہی سدا میری عبادت ہوتی
شرارتیں نہ اُس کی دل میں اُتری ہوتیں
تو کبھی نہ شروع یہ قیامت ہوتی
حوصلے محبت کے سدا ہوتے ہی رہتے
اندوہ و رنج ٗٗٗٗٗٗٗٗ الم کی گر یہ عنایت نہ ہوتی
وہ بھی مر جاتا اے کاش مجھ پر
اُسے بھی میرے پیار کی حسرت ہوتی
نہیں ٗ یہ تو بس رونا لکھ رہی ہوں
مر نہ جاتے گر اُس سے شکایت ہوتی
قطع تعلق وہیں پر خود سے کر دیتے
جہاں اُس سے شکایت حقیقت ہوتی
اُسے حالتِ ویران دکھانی تھی ہمیں
بے سکونی لکھنے سے گر فرصت ہوتی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







