یھاں سب سے الگ سب سے جدا ھونا تھا مجھ کو
Poet: M.Z By: M.Z, karachiیھاں سب سے الگ سب سے جدا ھونا تھا مجھ کو
مگر کیا ھو گیا ھوں اور کیا ھونا تھا مجھ کو
ابھی اک لہر تھی جس کو گزرنا تھا سروں سے
ابھی اک لفظ تھا میں اور ادا ھونا تھا مجھ کو
پھر اس کو ڈھونڈنے میں عمر ساری بیت جاتی
کوئی اپنی ہی غم گشتہ ھونا تھا مجھ کو
پسند آیا کسی کو میرا آندھی بن کے اڑنا
کسی کی رائے میں باد صبا ھونا تھا مجھ کو
وھاں سے اب گزر آیا ھوں خاموشی سے اب کہ
جھاں اک شور کی صورت بپا ھونا تھا مجھ کو
در و دیوار سے اتنی محبت کس لیے تھی
اگر اس قید خانے سے رہا ھونا تھا مجھ کو
میں اپنی راکھ سے بیشک دوبارہ سر اٹھاتا
مگر اک بار تو جل کر فنا ھونا تھا مجھ کو
میں اندر سے کہیں تبدیل ھونا چاھتا تھا
پرانی کینچلی میں ھی نیا ھونا تھا مجھ کو
ظفر میں ھو گیا کچھ اور ورنہ اصل میں تو
برا ھونا تھا مجھ کو یا بھلا ھونا تھا مجھ کو؟
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






