یہ آنکھ تو ہر لمحہ اشکبار
Poet: hira By: hira, gojraیہ آنکھ تو ہر لمحہ اشکبار رہتی ہے مگر
بہت عرصے سے اس دل نے رونا چھوڑ دیا ہے
یہ سچی محبتیں بہت مہگی پڑیں مجھے
دن رات کسی کے حیال میں تڑپنا چھوڑ دیا ہے
نہیں ملتا کنارہ کوئی میری مضطر تمناؤں کو
آنسوؤں نے درد کے دریا میں مچلنا چھوڑ دیا ہے
وہ کیا تعلق جو منزلوں کی پہچان بھلا دے
اب کسی اپنے کی سنگت میں چلنا چھوڑ دیا ہے
بظاہر تو میں زندہ ہوں اور سانس چلتی ہے
پس پردہ اب میں نے جینا چھوڑ دیا ہے
غم ہجر کے سب چراغ بجھا دئیے میں نے
ان سوختہ جاں شعلوں میں جلنا چھوڑ دیا ہے
بہت بے رنگ ہے زندگی تیرے یوں بچھڑنے سے
اب تیری یاد سے اپنا دامن بھگونا چھوڑ دیا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






