یہ جوہونٹوں پہ مسکان سجائےرکھتے ہیں
Poet: زھرہ زریں By: zohra zreen, Faisalabadیہ جوہونٹوں پہ مسکان سجائےرکھتے ہیں
ہم تو اس طور غم کو دل میں چھپائے رکھتے ہیں
ہر ایک دکھ کو سمجھتے ہیں کہ آخری دکھ ہے
یوں گراں زیست کے اسباب بنائے رکھتے ہیں
بزمِ اغیار میں ہنس ہنس کے چھپاتے ہیں الم
ھم آنا دل میں یوں ھی اپنے بسائے رکھتے ہیں
ھر کسی کو اپنے زخم دکھائے کیونکر
لوگ ظالم ہیں نمک ان پر گرائے رکھتے ہیں
اہل دنیا سے محبت کا نتیجہ ھے یہی
جام نفرت کا پیئے پر الفت پلائے رکھتے ہیں
یہ بھی سچ ہے کہ فطرت نہیں بدلا کرتی
پھر بھی رستے پہ تیرے آنکھ لگائے رکھتے ہیں
زریں سچ بات زمانے کو نہیں بھایا کرتی
پگلی کچھ سچ بھی دل میں چھپائے رکھتے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






