یہ میرا دل ہے تیرے باپ کی جاگیر نہیں
Poet: محمد اطہر طاہر By: Athar Tahir, Haroonabadیہ میرا دل ہے
تیرے باپ کی جاگیر نہیں
نہ یہ کھلونا ہے کوئی
کہ اپنی من مرضی سے
یوں ہی کھیلتے جاؤ
اور ہم جھیلتے جائیں
جب جی بھر جائے تو
کسی کچرادان میں پھینکو
اپنے کوڑھے ذوق سے
بے ڈھنگ نابینا شوق سے
میری ذاتِ مقدس کو
اناؤں کے تقدس کو
اپنے بدنما ہاتھوں سے
یوں ہی نوچتے جاؤ
اور ہم دیکھتے جائیں
سنو
اپنے لفظوں کا یہ کوڑا کرکٹ
اپنے بوسیدہ ذہن میں رکھو
اپنی بددماغی کے بے ربط تخیل کو
میری مسرور سماعت سے
ذرا سا دور ہی رکھو
خباثت سے اٹے سپنوں
اور پرفریب خوابوں کو
میری مخمور بصارت سے
ذرا سا دور ہی رکھو
اپنے کھردرے جذبوں کو
اپنے پاس ہی رکھو
اپنی اس تنگ نظری
اور بدگمانی کو
اپنی ذات تک رکھو
اپنے تخیل کی غلاظت کو
اپنے ساتھ ہی رکھو
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






