یہ کس لئے ہے تو اتنی اداس ہے وشمہ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیایہ کس لئے ہے تو اتنی اداس ہے وشمہ
پہن لیا ہے جو کالا لباس ہے وشمہ
تو شام رنگ ہوا جا رہا ہے صبح سے کیوں
جھلکتی ہے تری صورت سے یاس ہے وشمہ
نہارتے ہو یہ کس کس کو نیم وا ہو کر
پرائے دیس میں کیسی یہ آس ہے وشمہ
حنائی ہاتھ کے وہ لمس چھن گئے جن سے
بنے ہوئے ہیں سراپا سپاس ہے وشمہ
مکیں مکاں میں نہ ہوگا تو پھر کہاں ہوگا
یہیں کہیں ہے ترے آس پاس ہے وشمہ
لباس اور ہے لیکن میں کوئی اور نہیں
مجھے تو بھول گیا روشناس ہے وشمہ
مجھے بھی حیرت و حسرتؔ نے بت بنا ڈالا
تجھے بھی زندگی آئی نہ راس ہے وشمہ
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






