’عثمان خواجہ مسلمان ہیں‘،آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے شائقین کے دل جیت لیے

image
آسٹریلیا نے انگلینڈ کو ایشیز سیزیز میں چار صفر سے شکست دی ہے اور روایتی حریفوں کے خلاف ایسی جیت یقیناً بحیثیت کپتان پیٹ کمنز کے کیریئر کے بہترین لمحات میں سے ہوگی۔

کرکٹ شائقین جہاں آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کو اس جیت پر مبارکباد دے رہے ہیں وہیں سوشل میڈیا صارفین پیٹ کمنز کو ایک اور وجہ سے بھی اچھا کپتان قرار دے رہے ہیں۔

ایشز ٹیسٹ سیریز کے اختتام پر جب آسٹریلیا کی ٹیم کو ٹرافی تھمائی گئی تو تمام کھلاڑی جشن منانے جمع ہوئے اور ایک کھلاڑی شیمپین کی بوتل بھی ساتھ لے آئے۔

آسٹریلیا کی ٹیم میں دو سال بعد چوتھے ایشز ٹیسٹ میں دو سینچریوں کے ساتھ واپسی کرنے والے مسلمان کھلاڑی عثمان خواجہ اس لمحے جشن چھوڑ کر ایک طرف ہوگئے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آسٹریلین کپتان پیٹ کمنز کو عثمان خواجہ کی کمی کا احساس ہوا اور انہوں نے ساتھی کھلاڑی کو شیمپین اڑانے سے منع کیا اور ہاتھ کے اشارے سے عثمان خواجہ کو ٹیم کے ساتھ تصاویر بنوانے اور جشن منانے کے لیے بلایا۔

سابق پاکستانی فاسٹ بولر عمر گل اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ایک اچھا لیڈر ہمیشہ پوری ٹیم کا خیال رکھتا ہے اور ہر ایک کی عزت کرتا ہے۔‘

’پیٹ کمنز نے نے دکھا دیا کہ وہ اچھے لیڈر ہیں۔‘

Good leader always looks after the team as a whole and respects everyone equally and @patcummins30 has shown to be that leader. Enjoy the win @CricketAus

— Umar Gul (@mdk_gul) January 16, 2022

ڈاکٹر زاف نامی صارف نے لکھا کہ بظاہر یہ معمولی سا واقعہ ہے لیکن عثمان خواجہ کے لیے یہ بڑی بات ہوگی اور اس سے وہ خود کو ٹیم کا حصہ سمجھیں گے۔

ہاشم نامی صارف نے اس واقعے پر ایک میم شیئر کی جس پر شعر لکھا تھا: ’جو یقیں کی راہ پر چل پڑے، انہیں منزلوں نے پناہ دی۔‘

میچ کے بعد اس واقعے پر ایک رپورٹر کے سوال پر جواب دیتے ہوئے آسٹریلیا کے کپتان نے کہا کہ ’عثمان ایک مسلمان ہیں اور انہیں شیمپین [ایک دوسرے پر] اڑانا پسند نہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نے بس یقینی بنایا کہ وہ (عثمان) وہاں آجائیں اور شیمپین نہ اڑائی جائے۔‘


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
کھیلوں کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.