یوکرائن تنازع، روس کو جارحیت سے روکنے کیلیے نئی جرمن دھمکی

image
نئی جرمن وزیر خارجہ اینا لینا بیئربوک نے روس کو خبردار کیا ہے کہ یوکرائن پر جارحیت کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

اپنے پہلے دورہ یوکرائن کے موقع پر جرمن وزیر خارجہ اینا لینا بیئربوک کہا کہ وہ یوکرائن اور روس کے مابین جاری تنازع کا پرامن سفارتی حل چاہتی ہیں۔

  یوکرائنی دارالحکومت کییف میں اپنے یوکرائنی ہم منصب دیمتری کولیبا سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں اینا لینا بیربوک کا کہنا تھا کہ جرمنی یوکرائن اور تمام یورپ کی سلامتی کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے گا۔

جرمن وزیر خارجہ نے روس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اُس نے یوکرائن پر کوئی نیا حملہ کیا تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اینا لینا بیئربوک نے کہا کہ کسی بھی جارحیت پر روس کو اقتصادی، سیاسی اور حکمت عملی کے حوالے سے بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتکاری ہی واحد حل ہے۔

جرمن وزیر خارجہ کییف میں قیام کے دوران وہاں تعینات سکیورٹی و تعاون کی یورپی تنظیم کے مبصرین اور یوکرائنی صدر سے ملاقات کے بعد روس کا دورہ بھی کریں گی۔

اینا لینا بیئربوک کل ماسکو میں اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے بھی ملاقات کریں گی۔ اُن کے مطابق وہ تنازع کے حل کے لیے فریقین کا نقطہء نظر جاننا چاہتی ہیں۔

روس نے مشرقی یوکرائن سے متصل اپنی سرحدوں پر فوج کی بھاری نفری تعینات کر رکھی ہے جس کی وجہ سے خطے میں صورتحال کشیدہ ہے۔

گزشتہ ہفتے جنیوا میں روس اور امریکا کے مذاکرات بھی بے نتیجہ ہی ختم ہوگئے تھے۔

 یوکرائن پر گزشتہ ہفتے ہوئے ایک سائبر حملے کی وجہ سے حالات میں مزید تناؤ پیدا ہوگیا ہے اِس کے علاوہ ایسی انٹیلیجنس رپورٹ بھی منظر عام پر آئی تھیں کہ روسی فوج روس نواز باغیوں کے زیر قبضہ یوکرائنی علاقوں میں سبوتاژ کا ڈرامہ رچا کر حملے کا بہانہ تلاش کر رہی ہے۔

تاہم روس نے کہا ہے کہ اُس کا یوکرائن پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ روس کا الزام ہے کہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو بہانے سے یورپ کی مشرقی سرحدوں پر اپنی عسکری موجودگی میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔

آج بھی ماسکو میں میڈیا سے گفتگو میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے دہرایا کہ وہ نیٹو سے تحریری ضمانت چاہتے ہیں کہ وہ یوکرائن یا کسی بھی سابق سوویت ریاست میں اپنی فوج یا عسکری آلات نصب نہیں کرے گا جبکہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو اِس روسی مطالبے کو پہلے ہی کئی مرتبہ مسترد کر چکا ہے۔

Square Adsence 300X250

News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.