پنجاب ضمنی انتخابات: کیا اب بھی پی ٹی آئی نے 'دیرینہ پارٹی ورکرز' کو ٹکٹ دیے یا ان ہی الیکٹیبلز کو؟

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی تاریخ میں ایسا کم ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ جماعتوں میں موجود کارکنان کو بڑی تعداد میں پارٹی کے ٹکٹس دیے گئے ہوں۔
پی ٹی آئی
Getty Images

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جماعت نے پہلی مرتبہ ملک کی پارلیمانی سیاست کے نقشے پر سنہ 2013 کے عام انتخابات کے بعد قدم رکھ اور پہلی مرتبہ خاطر خواہ تعداد میں نشستیں جیتیں۔

اس سے قبل سیاسی ماہرین اس لیے بھی پاکستانی سیاست کے منظرنامے پر انھیں زیادہ سنجیدگی سے نہیں دیکھتے تھے کہ ان کی جماعت میں ’الیکٹیبلز‘ نہیں تھے، یعنی وہ لوگ جن کا ذاتی یا خاندانی سیاسی اثر و رسوخ ہوتا ہے یا وہ لوگ جو اپنے بل بوتے پر انتخاب جیت کر پارلیمان میں آپ کی جماعت کے لیے نشست یقینی بنا سکتے ہیں۔

عام طور پر الیکٹیبلز مالی طور پر مضبوط ہوتے ہیں یعنی وہ اپنی الیکشن مہم پر آنے والا خرچ برداشت کر سکتے ہیں۔

سنہ 2013 کے انتخابات اور اس کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) میں ایسے ’الیکٹیبلز‘ کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جو بنیادی طور پر پی ٹی آئی کا حصہ نہیں رہے تھے۔

تاہم حال ہی میں تحریکِ عدم اعتماد کے ہاتھوں اپنی حکومت کھونے کے بعد پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان بارہا یہ اظہار کر چکے ہیں کہ ماضی میں ان سے غلطیاں ہوئیں اور آئندہ انتخابات میں وہ ایسے لوگوں کو ٹکٹس دیں گے جو ان کی جماعت کے دیرینہ کارکن ہیں۔

ان کا یہ بیان پی ٹی آئی کے ان منحرف یا ’ناراض‘ اراکین کے تناظر میں سامنے آیا جنھیں وہ حزبِ اختلاف کی طرف سے پیش کی جانے والی تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کی وجہ سمجھتے ہیں۔

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی تاریخ میں ایسا کم ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ جماعتوں میں موجود کارکنان کو بڑی تعداد میں پارٹی کے ٹکٹس دیے گئے ہوں۔

سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیان پر ان کا پہلا امتحان جلد ہی صوبہ پنجاب میں 20 نشستوں پر ضمنی انتخابات کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ یہ وہ نشستیں ہیں جو ان کی جماعت کے منحرف اراکین کے نااہل قرار دیے جانے پر خالی ہوئی ہیں۔

https://twitter.com/ptipoliticsss/status/1536306473382432769

پی ٹی آئی اگر ان نشستوں کی اکثریت کو دوبارہ جیتنے میں کامیاب ہوتی ہے تو وہ صوبہ پنجاب میں ایک مرتبہ پھر حکومت بنانے کی طرف جا سکتی ہے۔ اس صورت میں اس کا سیاسی بیانیہ بھی کامیاب ثابت ہو گا کہ ملک کے عوام اس کے ساتھ ہیں، مگر ناکامی کی صورت میں اسے ان دونوں سطحوں پر یعنی دوہرا نقصان ہو سکتا ہے۔

ایسی صورتحال میں پی ٹی آئی کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم کا مرحلہ ایک مرتبہ پھر انتہائی اہم تھا۔ تاہم حال ہی میں پی ٹی کی جانب سے 19 نشستوں پر ٹکٹس کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

سیاسی مبصرین اور صوبہ پنجاب میں پاکستان تحریکِ انصاف کی سیاست پر نظر رکھنے والے صحافی اور تجزیہ نگار یہ سمجھتے ہیں کہ 19 نشستوں پر جن شخصیات کو ٹکٹس دیے گئے ہیں ان میں بڑی تعداد ’الیکٹیبلز‘ کی ہے گو کہ ان ٹکٹوں میں تاحال مزید تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔

یہاں یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ دوسری طرف پاکستان کی سیاست میں سیاسی جماعتوں کے لیے دیرینہ کارکنان کو ٹکٹس دینا کتنا مشکل یا آسان ہوتا ہے؟ کیا پی ٹی آئی کے علاوہ باقی سیاسی جماعتیں کارکنان کو ٹکٹس دیتی ہیں؟

اس سے قبل پی ٹی آئی کی طرف سے جاری کردہ فہرست میں موجود چند ٹکٹ ہولڈرز پر نظر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں ان میں کتنے ایسے لوگ ہیں جو پی ٹی آئی کے دیرینہ کارکن ہیں اور چیئرمین پی ٹی آئی ورکرز کو ٹکٹس دینے کے بیان پر کس حد تک عملدرآمد کر پائے؟

پی پی 158 لاہور سے میاں اکرم عثمان

اس حلقے سے پاکستان تحریکِ انصاف کے سابق سینیئر رہنما علیم خان سنہ 2018 کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے تھے۔ پی ٹی آئی کے رہنما میاں اکرم عثمان نے اس وقت بھی پارٹی ٹکٹ کی کوشش کی تھی تاہم انھیں ٹکٹ نہیں مل سکا تھا۔

اس سے قبل سنہ 2013 کے عام انتخابات میں انھوں نے اس وقت کے حلقہ پی پی 149 سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا تھا تاہم وہ ن لیگ کے امیدوار رانا مشہود کے ہاتھوں شکست کھا گئے تھے۔

میاں اکرم عثمان کو پاکستان تحریکِ انصاف کا دیرینہ کارکن سمجھا جاتا ہے۔ ان کا تعلق سیاسی خاندان سے ہے۔ وہ پاکستان تحریکِ انصاف کے سابق صوبائی وزیر میاں محمود الرشید کے داماد ہیں۔

میاں محمود الرشید دو مرتبہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے ممبر رہ چکے ہیں۔ اس سے قبل دو مرتبہ وہ اسلامی جمہوری اتحاد کے رکن کے طور پر بھی پنجاب اسمبلی کے ممبر رہے ہیں۔ انھوں نے سیاست کا آغاز جماعتِ اسلامی کے پلیٹ فارم سے کیا تھا تاہم بعد ازاں پاکستان تحریکِ انصاف کے ساتھ منسلک ہو گئے تھے اور ایک طویل عرصے سے جماعت کے ساتھ ہی تھے۔

پی پی 217 ملتان سے زین قریشی

پی ٹی آئی نے ملتان کی اس صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے زین قریشی کو ٹکٹ دیا ہے۔ وہ پاکستان تحریک انصاف کے نائب صدر اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے ہیں۔ سنہ 2018 میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ سنہ 2013 کے انتخابات سے قبل پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے سے پہلے شاہ محمود قریشی ایک طویل عرصے سے پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ تھے۔

سنہ 2018 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست شاہ محمود قریشی جیت گئے تھے تاہم انھوں نے پی پی 217 سے پنجاب اسمبلی کے لیے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا تاہم یہاں انھیں محمد سلیم نعیم کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔

سلیم نعیم کو ملتان کے اس حلقے میں پی ٹی آئی کا ’دیرینہ کارکن‘ تصور کیا جاتا ہے تاہم ان کی جماعت نے ان کے مقابلے میں شاہ محمود قریشی کو ٹکٹ دیا تھا۔ تاہم سلیم نعیم نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لے کر الیکشن جیت لیا تھا۔

اس کے بعد پی ٹی آئی کے اس وقت کے سرکردہ رہنما جہانگیر خان ترین حکومت سازی کے وقت سلیم نعیم کو پی ٹی آئی میں واپس لے آئے تھے۔ تاہم حال ہی میں وہ بھی منحرف اراکین کی اس فہرست میں شامل تھے جنھوں نے وزیرِاعلیٰ کے انتخاب میں ن لیگ کے امیدوار کو ووٹ دیا تھا۔

پی پی 90 بھکر سے عرفان نیازی

پاکستان تحریکِ انصاف نے بھکر کی اس نشست کے لیے عرفان اللہ خان نیازی کو پارٹی کا ٹکٹ دیا ہے۔ عرفان نیازی نے سنہ 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے طور پر حصہ لیا تھا۔

وہ اس وقت آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے والے تجربہ کار سیاست دان سعید اکبر خان نوانی کے ہاتھوں شکست کھا گئے تھے۔ سعید اکبر نوانی بعد میں پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے۔ حال میں وہ جہانگیر ترین گروپ کے سرکردہ رہنما کے طور پر سامنے آئے تھے۔

صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ بھکر میں پی ٹی آئی کی طرف سے عرفان نیازی کو ٹکٹ دینے کی مثال ’یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے لیے پارٹی ورکرز کو ٹکٹ دینا کیوں اور کتنا مشکل ہوتا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے اس شخص کو ٹکٹ دیا جو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے کزن ہیں تاہم سنہ 2018 تک بھکر میں وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل رہ چکے ہیں۔

پی پی 288 ڈی جی خان سے سردار سیف الدین کھوسہ

سردار سیف الدین کھوسہ ڈیرہ غازی خان میں سیاسی اور خاندانی اثر و رسوخ رکھنے والے کھوسہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ سنہ 2018 کے عام انتخابات میں انھوں نے پی ٹی آئی ہی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے لیے الیکشن میں حصہ لیا تھا۔

انھیں کھوسہ خاندان ہی سے تعلق رکھنے والے محسن عطا خان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جو آزاد حیثیت میں جیتے لیکن بعد میں پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے تھے۔

ضمنی انتخابات کے لیے پی ٹی آئی کا ٹکٹ حاصل کرنے والے سردار سیف الدین خان کھوسہ جنوبی پنجاب سے ایک طویل عرصے تک پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دیرینہ رہنما رہنے والے سابق سینیٹر سردار ذوالفقار خان کھوسہ کے صاحبزادے ہیں۔

سنہ 2018 سے قبل وہ خود بھی ایک طویل عرصے تک ن لیگ کے ساتھ منسلک رہے ہیں اور کئی مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔

صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا ماننا ہے کہ ’پاکستان میں شہروں سے باہر نکل کر دیہاتوں میں کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے پارٹی کارکنان کو ٹکٹ دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ان علاقوں میں زیادہ تر دھڑے بندیاں اور برادری سسٹم چلتا ہے۔‘

ان کے خیال میں پی ٹی آئی سے بھی عملی طور پر ایسے علاقوں سے کسی پارٹی کارکن کو ٹکٹ دینے کی توقع کرنا مشکل تھا۔

پی پی 167 لاہور سے عاطف چوہدری یا شبیر احمد

صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے پی پی 167 لاہور کا وہ حلقہ ہے جہاں سے پاکستان تحریکِ انصاف کے سابق رکن اسمبلی نذیر چوہان سنہ 2018 کے انتخابات میں ایک سخت مقابلے کے بعد کامیاب ہوئے تھے۔

انھوں نے 40 ہزار سے زائد جبکہ ان کے حریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے میاں محمد سلیم نے 38 ہزار ووٹ حاصل کیے تھے۔

ضمنی انتخاب کے لیے پی ٹی آئی نے اس حلقے سے پہلے عاطف چوہدری کو ٹکٹ دینے کا اعلان کیا تھا۔ عاطف چوہدری نے اس سے قبل سنہ 2013 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست کے لیے حلقہ این اے 123 سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا تھا تاہم کامیاب نہیں ہو پائے تھے۔

پنجاب میں پی ٹی آئی کے حالیہ دورِ حکومت میں انھیں لاہور ویسٹ مینیجمنٹ کمپنی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ عاطف چوہدری کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے دیرینہ کارکن ہیں۔

تاہم حال ہی میں اپنے فیصلے میں تبدیلی کرتے ہوئے پی ٹی آئی نے عاطف چوہدری سے ٹکٹ واپس لے کر پی پی 167 پر شبیر احمد نامی ایک رہنما کو پارٹی کا ٹکٹ دے دیا ہے۔ شبیر احمد کا خاندان پی ٹی آئی لاہور میں تنظیمی سطح پر متحرک رہا ہے۔

https://twitter.com/AtifChaudhryPti/status/1537142650947657730

کیا پاکستان میں سیاسی جماعتیں کارکنان کو ٹکٹ دیتی ہیں؟

صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ صرف پاکستان تحریکِ انصاف ہی نہیں بلکہ پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ یہ مسئلہ رہا ہے کہ انھوں نے پارٹی کارکنان کو بہت کم ٹکٹس دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے بہت سے ایسے سیاستدان دیکھے ہیں جو پارٹی کارکن کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں لیکن ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔‘ ان کے خیال میں پاکستان میں تمام تر بڑی سیاسی جماعتیں جو حکومت قائم کرتی رہی ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ الیکٹیبلز ہی کو ٹکٹس دیں۔

سینیئر تجزیہ کار اور صحافی سہیل وڑائچ کا ماننا ہے کہ ایسا صرف پاکستان ہی میں نہیں ہوتا۔ دنیا کے دیگر کئی ممالک میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو پارٹیاں ٹکٹ دیتی ہیں جو کسی قسم کا اثر و رسوخ رکھتے ہیں یا مالی طور پر مستحکم ہوتے ہیں۔

’ترقی یافتہ ممالک میں تو سیاسی جماعتیں نظریے کی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لیتی ہیں اور اسی طرح امیدواروں کو بھی منتخب کیا جاتا ہے تاہم ترقی پذیر ممالک میں زیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے کہ الیکٹیبلز کو ٹکٹ کے لیے کارکنان پر ترجیح دی جاتی ہے۔‘

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی سیاسی جماعتیں یہ دعویٰ یا اعلان ضرور کرتی ہیں کہ وہ اپنے سیاسی ورکرز کو ٹکٹس دیں گی تاہم عملی طور پر ان کے لیے ایسا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.