شہروز کاشف: نانگا پربت پر پھنسے پاکستان کے سب سے کم عمر کوہ پیما کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن کا حکم

وزیر اعلی گلگت بلتستان نے نانگا پربت پر پھنسے نوجوان پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف اور ان کے گائیڈ کی بحفاظت واپسی کے لیے فوری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیر اعلی گلگت بلتستان نے نانگا پربت پر پھنسے نوجوان پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف اوران کے گائیڈ کی بحفاظت واپسی کے لیے فوری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

صحافی زبیر خان کے مطابق گلگت بلتستان وزیر اعلیٰ ہاؤس کے حکام کا کہنا ہے کہ شہروز کاشف اور دیگر کوہ پیماؤں سے رابطہ ٹوٹنے کی اطلاع ان کے بیس کیمپ سے ملی ہے جس کے بعد کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔

شہروز کاشف نے منگل کی صبح ہی نانگا پربت کی چوٹی سر کی تھی اور ان کے والد کے مطابق واپسی کے سفر کے دوران وہ کیمپ فور سے ذرا آگے راستہ بھول جانے کے سبب پھنس گئے ہیں۔

گلگت بلتستان کے محکمۂ اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید نے محکمہ داخلہ کوآرمی ایوی ایشن سے بھی مدد طلب کرنے کا حکمدیا ہے۔

شہروز کے والد کاشف سلمان نے بی بی سی اردو کی منزہ انوار کو بتایا کہ ان کا اپنے بیٹے سے آخری رابطہ منگل کی شام سات بجے ٹیکسٹ میسج پر ہوا ہے اور وہ پرامید ہیں کہ بدھ کی صبح سورج نکلنے کے بعد شہروز اور ان کے گائیڈ دوبارہ چلیں گےاور کیمپ تھری پہنچ جائیں گے۔

کاشف سلمان کا کہنا تھا کہ شہروز جس کمپنی کے ساتھ نانگا پربت گئے ہیں ان کی انتظامیہ سے شہروز اور ان کے گائیڈ کو مدد پہنچانے کے حوالے سے بات ہوئی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ صورتحال صبح ہی کلیئر ہو گی۔

الپائن کلب آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری کرار حیدری کے مطابق شہروز کاشف سے منگل کی صبح سے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا اور رابطہ مہم کی کامیابی کے بعد واپسی کے راستے پر ختم ہوا تھا۔

نانگا پربت کو سر کرنے کے بعد شہروز کاشف تقریبا سات ہزار میٹر کی بلندی پر تھے۔ ان بیس کیمپ پر استقبال کی تیاریاں ہورہی تھیں مگر ان سے رابطہ قائم نہیں ہوسکا۔ 20 سالہ شہروز کاشف نے منگل کی صبح تقریباً 8:45 پر پاکستان میں واقع دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی نانگا پربت(8126 میٹر) سر کی ہے۔

کرار حیدری کہتے ہیں کہ ناگا پربت پر آج صبح موسم ٹھیک نہیں تھا مگر شام اور رات کے وقت موسم اچھا ہو گیا تھا۔ ہمارا خیال ہے کہ وہ شاید موسم کی خرابی کے باعث وہاں ہی پر کہیں رک گئے ہوں گے اور موسم بہتر ہونے کا انتظار کر رہے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

شہروز کاشف: پاکستان کے سب سے کم عمر کوہ پیما نے دنیا کی پانچویں بلند ترین چوٹی بھی سر کر لی

19 سالہ شہروز کاشف کے ٹو سر کرنے والے دنیا کے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے

وہ بچہ جسے ’بہت چھوٹا‘ کہہ کر کوہ پیما ساتھ نہ لے جاتے اس نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کر لی

’بیٹا بار بار پوچھتا تھا، بابا برفانی تودوں کا خطرہ تو نہیں ہے نا؟‘

کوہ پیماؤں کے چوٹی سر کرنے کے دعوے کی تصدیق کیسے ہوتی ہے؟

لاہور سے تعلق رکھنے والے شہروز جنھیں زیادہ تر لوگ 'براڈ بوائے' کے نام سے جاتے ہیں، 8000 میٹر سے بلند 14 چوٹیوں میں سے آٹھ کو سر کر چکے ہیں اور ان کے والد کے مطابق اب شہروز کا مشن باقی چوٹیوں کو ڈیڑھ سال کے اندر اندر سر کرنا ہے۔

رواں برس مئی میں شہروز دنیا کی پانچ بلند ترین چوٹیوں کو 23 دنوں کے اندر سر کرنے والے دنیا کے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے تھے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے شہروز جنھیں زیادہ تر لوگ ’براڈ بوائے‘ کے نام سے جاتے ہیں، دنیا کی پانچ بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنے والے دنیا کے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے ہیں۔ شہروز 8000 میٹر سے بلند 14 چوٹیوں میں سے سات کو سر کر چکے ہیں اور ان کے والد کے مطابق اب شہروز کا مشن باقی سات چوٹیوں کو ڈیڑھ سال کے اندر اندر سر کرنا ہے۔

وہ واحد پاکستانی کوہ پیما ہیں جنھوں نے صرف 23 دنوں میں 8000 میٹر کی تین چوٹیوں پانچ مئی 2022 کو دنیا کی تیسری بلند ترین کنچن جنگا (8586 میٹر)، 16 مئی 2022 کو چوتھی بلند ترین لوتسے (8516) اور پانچویں بلند ترین مکالو (8463) کو سر کیا ہے۔

اس سے قبل شہروز نے دنیا کی دوسری بلند اور مشکل ترین چوٹی کے ٹو (8611 میٹر)، ماؤنٹ ایورسٹ (8848 میٹر)، براڈ پیک (8047 میٹر) کے علاوہ مکڑا پیک (3885 میٹر)، موسی کا مصلہ (4080 میٹر) چمبرا پیک (4600 میٹر)، منگلک سر (6050 میٹر)، گوندوگرو لا پاس (5585 میٹر)، خوردوپن پاس (5800) اور کہسار کنج (6050 میٹر) کو بھی سر کر رکھا ہے۔

دنیا کی پہلی اور دوسری بلند ترین چوٹیوں ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو سر کرنے کے بعد شہروز نے تیسری، چوتھی اور پانچویں بلند ترین چوٹیاں سر کرنے والے اس مشن کو ’پروجیکٹ 345‘ کا نام دیا تھا۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
کھیلوں کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.