اینکر عمران ریاض کی پیشیاں، ’مقدمے سے پیکا آرڈیننس کی دفعات خارج‘

image

راولپنڈی کے سپیشل مجسٹریٹ نے ایف آئی اے کی دفعات ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے اینکر اور یوٹیوبر عمران ریاض کو دوبارہ اٹک کی مقامی عدالت پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

جج کا کہنا تھا کہ ’یہ میرا دائرہ اختیار نہیں بنتا، ملزم کو آج ہی اٹک کی مقامی عدالت میں پیش کیا جائے۔‘

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ اور اٹک کی مقامی عدالت کے بعد راولپنڈی کے سپیشل مجسٹریٹ نے بھی اینکر عمران ریاض کا کیس اپنے دائرہ اختیار سے باہر قرار دیا۔ 

بدھ کو اٹک کی مقامی عدالت میں اینکر اور یوٹیوبر عمران ریاض خان کو پیش کیا گیا تو سرکاری وکیل نے ان کے جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا کی۔

اس پر اٹک کی مقامی عدالت نے کیس اپنے دائرہ اختیار سے باہر قرار دیتے ہوئے عمران ریاض کو راولپنڈی کے ایڈیشنل سیشن جج کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا۔ 

اٹک کی مقامی عدالت کے میجسٹریٹ کا کہنا تھا کہ ’ایف آئی آر میں پیکا ایکٹ کے تحت دفعات درج ہونے کے باعث یہ کیس ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔‘ 

اس سے قبل منگل کی رات کو عمران ریاض خان کے وکلا اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست لے کر پہنچے تھے۔ 

بدھ کی صبح  اینکر اور یوٹیوبر عمران ریاض کی گرفتاری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس اپنے دائرہ اختیار سے باہر قرار دیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔ 

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے مطابق ’عمران ریاض کی گرفتاری اسلام آباد کی حدود سے باہر ہوئی ہے لہٰذا یہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔‘ 

اٹک کی مقامی عدالت کے حکم کے مطابق عمران ریاض خان کو آج بدھ کی شام کو راولپنڈی کے سپیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’یہ کیس میں کیسے سن سکتا ہوں یہ تو میرے دائرہ اختیار میں ہی نہیں آتا۔‘ 

خیال رہے کہ اینکر اور یوٹیوبر عمران ریاض خان کو منگل کی رات کو موٹروے کے اسلام آباد ٹول پلازہ پر پشاور سے آتے ہوئے پنجاب پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ 

عمران ریاض خان حال ہی میں سابق وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ مختلف تقریبات میں تقاریر کرتے رہے ہیں۔ ان تقاریر میں انہوں نے عمران خان کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کی تھی۔

راولپنڈی کے سپیشل مجسٹریٹ نے 40 منٹ کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.