’سلو فِنگر آف ڈیتھ‘ کے نام سے مشہور سابق کرکٹ امپائر روڈی کوئرٹزن کار حادثے میں ہلاک

image

جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی سابق کرکٹ امپائر روڈی کوئرٹزن کار حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

منگل کو فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف کو روڈی کوئرٹزن کے خاندان کے ایک رکن نے کہ روڈی کوئرٹزن ایک کار حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

 ان کی عمر 73 برس تھی۔

ان کے خاندان کے ترجمان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’روڈی کو کیپ ٹاؤن اور گکیبرہا کے درمیان اسٹیلبائی کے قریب ایک حادثے کے بعد مہلک چوٹیں آئیں۔‘

ان کے بیٹے روڈی نے گکیبرہا ریڈیو اسٹیشن کو بتایا کہ ’میرے والد کچھ دوستوں کے ساتھ گولف ٹورنامنٹ میں گئے تھے اور پیر کو ان کی واپسی متوقع تھی لیکن ہمیں لگا کہ انہوں نے گولف کا ایک اور راؤنڈ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

جنوبی افریقی ٹیم بدھ کو کوئرٹزن کے اعزاز میں بازو پر سیاہ پٹیاں باندھے گی جب وہ لندن کے لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں مدمقابل ہوں گی۔

یاد رہے کہ روڈی کوئرٹزن نے پہلی بار 1981 میں امپائرنگ کی جبکہ 11 برس بعد انہوں نے پہلی بار بین الاقوامی اسائنمنٹ سنبھالی۔

بعدازاں وہ 2010 میں آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان لیڈز میں ہونے والے ٹیسٹ کے بعد ریٹائر ہوئے۔

وہ ’سلو فنگر آف ڈیتھ‘ (موت کی سست انگلی) کے نام سے بھی مشہور ہوئے کیونکہ وہ کسی بھی بیٹسمین کے آؤٹ ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے اپنی انگلی بہت آہستہ اٹھاتے تھے۔

روڈی کوئرٹزن نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہر امپائر کا اپنا ٹریڈ مارک ہوتا ہے اور وہ میرا تھا۔ میڈیا نے اسے ’موت کی سست انگلی‘ کا نام دیا اور مجھے یہ کافی دلچسپ لگا۔ اس کے پیچھے ایک کہانی ہے۔‘

روڈی کوئرٹزن نے کہا کہ جب میرا امپائرنگ کیریئر پہلی بار شروع ہوا تو میں اپنے ہاتھ اپنے سامنے پکڑا کرتا تھا اور جب بھی کوئی اپیل ہوتی تو میں انہیں اپنی پسلیوں کے مقابل جوڑ دیتا تھا۔

’کسی نے مجھ سے کہا ’روڈی، آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ جب بھی آپ انہیں جوڑنے کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں، بولر سوچتا ہے کہ آپ اسے وکٹ دینے والے ہیں۔‘

’لہٰذا میں نے اپنی کلائیوں کو پیچھے سے پکڑنا شروع کیا۔ یوں انگلی آہستہ آہستہ باہر آتی ہے کیونکہ مجھے اپنی گرفت کو پیچھے چھوڑنے میں وقت لگتا ہے۔‘


News Source   News Source Text

مزید خبریں
کھیلوں کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.