شہباز گل کا پولیس ریمانڈ مجھے ٹارگٹ کرنے کی سازش کا حصہ ہے: عمران خان

image

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے پارٹی رہنما شہباز گل کو دوبارہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے پر کہا ہے کہ ’یہ مجھے ٹارگٹ کرنے کی سازش کا حصہ ہے جس میں شہباز گل سے زبردستی جھوٹا بیان لیا جائے گا۔

بدھ کو سابق وزیراعظم نے ٹوئٹر پر لکھا کہ شہباز گل کو جسمانی ریمانڈ پر دوبارہ پولیس کے حوالے کرنے پر انہیں تشویش ہے۔

 ان کا کہنا تھا ’اغوا‘ کرکے بعد نامعلوم مقام پر اور پھر پولیس سٹیشن میں ہونے ہونے والے تشدد کے بعد شہباز گل کی ذہنی اور جسمانی صحت ٹھیک نہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ’یہ مجھے ٹارگٹ کرنے کی سازش کا حصہ ہے جس میں شہباز گل سے زبردستی جھوٹا بیان لیا جائے گا جس طرح سوشل میڈیا ایکٹوسٹس سے لیا گیا۔ یہ بالکل قابل قبول نہیں۔‘

عمران خان نے مزید کہا کہ ’ ہم نہ صرف شہباز گل کے خلاف ہونے والے تشدد بلکہ اس طرح کے غیرقانونی اور غیرآئینی کارروائیوں کے خلاف تمام سیاسی اور قانونی اقدامات اٹھائیں گے۔‘

قبل ازیں ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کی عدالت نے شہباز گل کو مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر اسلام آباد پولیس کے حوالے کیا تھا۔ 

عدالت نے سپیشل پبلک پراسیکیوٹر رضوان عباسی اور شہباز گل کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے دن تین بجے سنایا گیا۔

دریں اثنا پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل اسد عمر کا کہنا ہے کہ  مرضی کا بیان حاصل کرنے کے لیے شہباز گل کا دوبارہ جسمانی ریمانڈ لیا گیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں اسد عمر نے کہا کہ شہبازگل پر جسمانی ریمانڈ کے دوران تشدد کیا گیا تھا جس کے شواہد انہوں نے عدالت میں دکھایا تھا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ یقین دہائی کرائی جائے کہ پولیس تحویل میں شہباز گل پر تشدد نہیں کیا جائے گا۔

اس موقع پر انہوں نے وزیردفاع خواجہ آصف کی جانب سے ہیلی کاپٹر کریش کے بعد منفی سوشل میڈیا مہم کا الزام پی ٹی آئی پر ڈالنے می مذمت کی۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے کہا ہے کہ  شہباز گل کو تفتیش کے لیے نہیں تشدد کے لیے پولیس کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے گل کو جسمانی ریمانڈ پر بھیجنے کے فیصلے پر تنقید کی۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.