bbc-new

میکسیکو کے 43 لاپتہ طلبا: واقعے کے اہم کرداروں کا کیا ہوا؟

26 ستمبر 2014 کو میکسیکو میں 34 طلبا کی اچانک گمشدگی نے پورے ملک کو ہِلا کے رکھ دیا تھا۔ اس واقعہ نے ناصرف حکومت کے معاملات میں رائج کرپشن بلکہ اُس ریاستی تشدد کا پردہ چاک کر دیا تھا جس میں اس وقت تک ہزاروں شہری مارے جا چکے تھے۔ آج آٹھ برس بعد بھی کوئی نہیں جانتا کہ آخر اُن 34 طلبا کے ساتھ کیا ہوا۔
Posters of the missing students
Getty Images
43 طلبا کی گمشدگی کے واقعہ نے پورے میکسیکو کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا تھا

میکسیکو کے ایک چھوٹے اور پُرسکون قصبے ’ککولا‘ سے آدھے گھنٹے کی مسافت پر کوڑے کرکٹ کے ایک ڈھیر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وہ مقام ہے جس کے نیچے ان 43 طلبا کی آخری آرام گاہ ہے جو 26 ستمبر 2014 کو ایک مظاہرے میں حصہ لینے کے بعد واپس اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔

ناکارہ پلاسٹک اور روز مرہ کے کوڑا کرکٹ اور ملبے کے درمیان یہی وہ جگہ ہے جس کے بارے میں میکسیکو کے سرکاری حکام کا کہنا تھا کہ ’گوریرس یونیڈس‘ یا ’متحدہ جنگجو‘ نامی تنظیم کے لوگوں نے 43 طلبا کو یہاں پر نذر آتش کرنے کے بعد دفن کر دیا تھا۔

ان تمام طلبا کا تعلق ایک دیہی ادارے ’آئیوتزی ناپا رورل ٹیچرز کالج‘ سے تھا۔ درحقیقت اِن طلبا کو پولیس نے قریبی قصبے سے گرفتار کر کے ’متحدہ جنگجوؤں‘ کے غنڈوں کے حوالے کر دیا تھا۔

تاہم سنہ 2016 تک غیر جانبدار اور آزاد ذرائع نے حکومت کی اس کہانی کو غلط ثابت کر دیا تھا کہ طلبا کو ہلاک کرنے کے بعد کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا تھا۔ آزاد ذرائع کے مطابق یہ میکسیکو کی تاریخ کی سب سے بڑی ’جھوٹی کہانی‘ تھی، اُس ملک کی کہانی جہاں بدعنوانی حکومت کے تمام اداروں میں سرایت کر چکی تھی اور مار دھاڑ عام ہو چکی تھی۔

آٹھ برس بعد صرف تین طلبا کی باقیات کی شناخت ہو سکی ہے۔ گذشتہ برسوں کے شدید عوامی دباؤ کے بعد ملک کے موجودہ صدر آنڈرئس مانئول لوپیز اوبراڈور نے ایک کمیشن تشکیل دیا ہے جس نے طلبا کی ہلاکت کو ’ریاست کا جرم‘ قرار دیتے ہوئے اس کی تفتیش شروع کروا دی ہے۔

کمیشن کے مطابق اس واقعہ میں غنڈوں کے علاوہ فوجی، مقامی سرکاری اہلکار اور وفاقی حکومت کے افسران بھی شامل تھے اور اس کے تانے بانے حکومت کی اعلیٰ ترین شخصیات سے ملتے ہیں۔

گذشتہ دو حکومتوں کے ادوار میں لوگ مسلسل احتجاج کرتے رہے ہیں کہ طلبا کی ہلاکت کے واقعہ میں جو بھی سچ ہے اسے لوگوں کے سامنے لایا جائے۔

طلبا کے اغوا اور اُن کے غائب کیے جانے کے آٹھ برس بعد واقعے میں ملوت کچھ مرکزی کرداروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، کچھ خود روپوس ہو چکے ہیں لیکن کچھ لوگ اب بھی اپنے سوالوں کے جواب تلاش کر رہے ہیں۔

جیزز مرلو کرام، سابق اٹارنی جنرل

Jesús Murillo Karam
Getty Images
جیزز مرلو کرام اس وقت ملک کے اٹاری جنرل تھے

رواں برس 19 اگست کو میکسیکو کے سب سے بڑے سرکاری وکیل جیزز مرلو کرام کو اس واقعے کے پس منظر میں حراست میں لیا گیا ہے۔

جب وہ صدر اریق پینا نیاٹو کی حکومت میں اٹارنی جنرل تھے تو انھوں نے ہی طلبا کو غائب کیے جانے کےواقعے کی باقاعدہ تفتیششروع کی تھی۔

اب ان پر طلبا کو زبردستی لاپتہ کرنے، اُن پر تشدد کروانے اور انصاف کی راہ میں روڑے اٹکانے کے الزامات میں فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ صدر پینا نیاٹو کے بعد میکسیکو کے صدر بننے والے، مسٹر لوپیز اوبراڈور نے کہا ہے کہ طلبا کی گمشدگی کے بعد ان کی گرفتاری کی جھوٹی کارروائی اس بات کا ’ثبوت‘ ہے کہ جیزز مرلو نے معاملے کی پردہ پوشی کی اور ان کا مقصد وفاقی حکومت کو کسی بھی قسم کی ذمہ داری سے بچانا تھا۔

24 اگست کو عدالت کے سامنے اُن کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ تفتیش میں کچھ غلطیاں ہو سکتی ہیں، لیکن ابھی تک کوئی شخص کوئی ایسی توجیح پیش نہیں کر سکا ہے جس سے طلبا کے زبردستی اغوا کے علاوہ کسی دوسری بات پر یقین کیا جا سکے۔

اب جیزز مرلو کرام پر باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے گا۔ اگرچہ عدالتی کارروائی کی کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی ہے تاہم جج نے حکم دیا ہے کہ کارروائی شروع ہونے تک سابق اٹارنی جنرل زیرِ حراست ہی رہیں گے۔

ٹامس زیرون، کرمنل انوسٹیگیشن ایجنسی کے سابق سربراہ

Tomas Zeron
Getty Images
کہا جاتا ہے کہ آج کل ٹامس زیرون اسرائیل میں ہیں

موجودہ حکومت نے میکسیکو کی تحقیقاتی ایجنسی کے اس وقت کے سربراہ ٹامس زیرون پر بھی الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے سرکاری موقف کو تقویت دینے کی غرض سے طلبا کی گمشدگی کے واقعے کے گواہوں پر تشدد کیا، جن میں گوریلا تنظیم کا ایک رکن بھی شامل تھا۔

ٹامس زیرون پر مبینہ طور پر شواہد میں گڑبڑ کرنے کا الزام بھی ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ انھیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سنہ 2019 میں خبر ملی تھی کہ ٹامس زیرون کینیڈا فرار ہو گئے ہیں لیکن جولائی 2021 میں اسرائیلی اور میکسیکو کے حکام نے کہا تھا کہ وہ فرار ہو کر اسرائیل پہنچ گئے ہیں جہاں انھوں نے سیاسی پناہ کی درخواست دے رکھی ہے۔

اس کے بعد میکسیکو نے اسرائیل سے ٹامس زیرون کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا اور میکسیکو کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ان کی میکسیکو واپسی موجودہ حکومت کی بڑی ترجیحات میں شامل ہے۔ ابھی تک اسرائیلی حکام نے میکسیکو کی حوالگی کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کرنل حبیب: پاکستانی فوج کے سابق افسر جن کی نیپال میں گمشدگی آج بھی ایک معمہ ہے

سمندروں کی حفاظت کرنے والا شخص جسے سمندر نگل گیا یا آسمان، کچھ معلوم نہیں

’خدا سے ملاقات‘ کے لیے ’روحانی سفر‘ پر جانے والا گروہ مل گیا

کارگل جنگ کے ’لاپتہ‘ پاکستانی فوجی جو برفانی بلندیوں میں کھو گئے

موجودہ حکومت کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، سرکاری حکام نے ان کی ممکنہ واپسی اور الزامات کا سامنا کرنے کے حوالے سے فروری میں اسرائیل میں مسٹر زیرون سے ملاقات بھی کی تھی، تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وہ ابھی تک اسرائیل میں ہیں۔

ہوزے لوئس ابارکا، اگویالا کے سابق میئر

سنہ 2014 میں اگویالا کے میئر بننے والے ہوزے لوئس ابارکا طلبا کے اغوا کے چند ہی دن بعد اپنی بیوی کے ہمراہ قصبے سے فرار ہو گئے تھے۔ ایک ماہ بعد دونوں کو میکسیکو سٹی سے گرفتار کر لیا گیا تھا اور اب یہ دونوں منی لانڈرنگ اور بڑے جرائم پیشہ گروہوں سے تعلق کے جرم میں قید کاٹ رہے ہیں۔

ان الزامات کے باوجود کہ وہ طلبا کی گمشدگی کے معاملے میں ملوث تھے، ان کے خاندان کے کچھ افراد ان کا دفاع کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ گذشتہ ماہ مقامی لوگوں نے ان کی رہائی کے لیے مظاہرہ بھی کیا تھا۔

José Luis Abarca
Getty Images
حکام نے ابارکا کی گرفتاری کا اعلان سنہ 2014 میں کیا تھا

14 ستمبر کو ایک جج نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر انھیں طلبا کے اغوا کے الزام سے بری کر دیا، تاہم انھیں منی لانڈرنگ کے علاوہ دو مقامی سرگرم کارکنوں کے قتل کے الزام میں ایک دوسرے مقدمے کا سامنا ہے۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کو چیلنج کریں گے اور انھوں نے ٹامس زیرون کے جلد رہا ہونے کے امکانات کو رد کیا ہے۔

’گوریرس یونیڈس‘ یا ’متحدہ جنگجو‘

اس گروہ پر الزام ہے کہ اغوا کے بعد طلبا کو اس کے غنڈوں نے ہلاک کیا تھا، لیکن متحدہ جنگجو اب بھی ایک متحرک گروہ ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق یہ گروہ میکسیکو کے تین صوبوں میں اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کی وراداتوں میں ملوث ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ گینگ ہیروئن بناتا ہے اور اسے امریکہ سمگل کرتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس گروہ کے رابطے میکسیکو میں منشیات کا دھندہ کرنے والے سب سے طاقتور گروہ، جالیسکو نیو جنریشن سے بھی ہیں۔

اس سے قبل اگست میں میکسیکو کے حکام نے اعلان کیا تھا کہ اس گروپ کے 14 افراد 83 لوگوںکے اس بڑے گروپ میں شامل تھے جو 43 طلبا کی گمشدگی کے سلسلے میں گرفتاری کے لیے مطلوب تھا۔

اپنے خاندانوں کے تین افراد سمیت، اس گینگ کے مزید 14 ارکان، جو تمام طلبا کی ہلاکت کے معاملے سے منسلک تھے، سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں جبکہ دوسرے طبی موت مر گئے۔

A group of women hold a banner reading
Getty Images
لاپتہ طلبا کے حوالے سے ملک میں کئی مظاہرے بھی ہو چکے ہیں

میکسیکو کے حکام پر بھی بارہا الزام لگایا گیا ہے کہ وہ اعترافی بیانات حاصل کرنے کے لیے گینگ کے مشتبہ ارکان پر تشدد کرتے رہے تھے۔

اس گروہ کے ایک اور رکن، سالگاڈو گُزمین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے طلبا کے اغوا میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، اور اسے پولیس نے ستمبر 2021 میں گولی مار دی تھی۔ لیکن ایک تازہ ترین سرکاری رپورٹ کے مطابق اس شخص کی موت کے حوالے سے حکومتی کہانی میں کئی جھول ہیں جن کی بنیاد پر حکام نے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ جب پولیس نے اسے گولی ماری تو وہ پہلے ہی زخمی تھا۔

میکسیکو کی فوج

Mexican soldiers
Getty Images
فوجیوں نے بھی لاپتہ طلبا کی تلاش کی مہم میں حصہ لیا تھا

اگویالا میں طلبا کی گمشدگی کی پراسرار کہانی بڑی حد تک میکسیکو کی فوج کے کردار کے ارد گرد گھومتی ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق ایک فوجی مخبر طلبا کے ساتھ سفر کر رہا تھا اور طلبا پر حملے سے پہلے تک جو کچھ ہو رہا تھا، فوج کو اس کی پوری خبر تھی۔ حکام یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ فوج نے اپنے اس مخبر کو تلاش کرنے کی کوئی کوشش نہیں اور وہ ابھی تک لاپتہ ہے۔

اس کے علاوہ فوج پر یہ بھی الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ اس نے حکام سے وہ معلومات مخفی رکھیں جو طلبا کو تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی تھیں۔ واقعے کے بعد ڈرون سے بنائی جانے والی ویڈیو میں بحریہ کے کچھ اہلکاروں کو بظاہر ککولا کے کیمپ میں موجود شواہد میں گڑبڑکرتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

15 ستمبر کو حکام نے بتایا تھا کہ انھوں نے اس معاملے کے حوالے سے فوج کے ایک ریٹائرڈ جنرل، ہوزے روڈریگز پیرز کو حراست میں لے لیا ہے۔ واقعہ کے وقت وہ کرنل تھے اور وہ اگویالا میں ہی تعینات تھے۔ ان کے علاوہ حکام نے دو مزید فوجی افسران کی گرفتاری کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

A girl sits next to a mural on 30 September , 2014, during the wake for student Julio Cesar Ramirez Nava who was killed in Iguala,
Getty Images
تین طلبا سمیت چھ افراد کو اِگویالا کے مقام پر ہلاک کیا گیا تھا

میکسیکو کی انسانی حقوق کی تنظیم کے اعلیٰ ترین عہدیدار نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ غنڈوں کے گروہ نے اغوا کیے جانے والے طلبا میں سے چھ کو ایک گودام میں رکھا تھا اور پھر انھیں کرنل ہوزے کے حوالے کر دیا تھا جنھوں نے انھیں ہلاک کر کے لاشیں پھینک دینے کا حکم دیا تھا۔

حال ہی میں کل 20 فوجی اہلکاروں کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے جن میں ان دو یونٹوں کے سربراہ بھی شامل ہیں جو واقعہ کے وقت علاقے میں تعینات تھیں۔

اگرچہ میکسیکو کی حکومت کا کہنا ہے کہ واقعہ میں ملوث فوجی اہلکاروں کو انسانی حقوق کی پامالی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا، لیکن اس معاملے کی ابتدائی تفتیش میں جو چیزیں سامنے آئی تھیں ان میں سے اکثریت پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.