bbc-new

سیکس ٹارشن گینگ: انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مردوں کی ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے والا گروہ گرفتار

سرینگر پولیس کے ایس ایس پی راکیش بھلوال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس معاملے پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ ’بڈگام ضلع کا رہنے والا یہ جوڑا کئی ماہ سے لوگوں کو ٹھگ رہا تھا اور اب تک سادہ لوح مردوں سے 40 لاکھ روپے لے چکا تھا۔‘

پاکیزہ (فرضی نام) کے تازہ شکار ایک ایسے نوجوان بنے جن کی آمدن محدود تھی۔ سوشل میڈیا پر ہائے ہیلو کے بعد انھیں ایک کمرے میں ملاقات کے لیے بلایا گیا اور اس دوران اچانک ایک اور شخص کمرے میں داخل ہوا اور ویڈیو بنانے لگا۔

بعد میں اس ویڈیو کو لیک کرنے کی دھمکی دے کر ان سے بڑی رقم طلب کی گئی۔ ایسی کئی قسطوں میں جب متاثرہ شخص آٹھ لاکھ روپے دے چکا تھا تب بھی پاکیزہ اور ان کے شوہر کے مطالبے نہیں تھمے۔

کسی طرح ہمت کر کے یہ شخص گذشتہ ہفتے پولیس کے پاس پہنچا تو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں اپنی نوعیت کے پہلے ’سیکس ٹارشن گینگ‘ کے خلاف ایف آئی آر درج ہو گئی۔

سرینگر پولیسکے ایس ایس پی راکیش بھلوال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس معاملے پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ ’بڈگام ضلع کا رہنے والا یہ جوڑا کئی ماہ سے لوگوں کو ٹھگ رہا تھا اور اب تک سادہ لوح مردوں سے 40 لاکھ روپے ہتھیا چکا تھا۔‘

پولیس نے میاں بیوی اور ان کے ایک اعانت کار کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق معاملے کی مزید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ’پاکیزہ مردوں کو سوشل میڈیا پر رِجھانے کے بعد اُن کے ساتھ واٹس ایپ پر دوستی کرتیں اور بعد میں موقع پاتے ہی اپنے اعانت کار کے ذریعہ کسی خفیہ مقام پر بلا کر ان کی ویڈیو بناتی اور بلیک میل کرتی تھی۔‘

’ویڈیوز بنا کر بلیک میل کیا جاتا رہا‘

سرینگر پولیس نے ٹوئٹر پر ان تین ملزمان، جنھوں نے ماسک پہنے ہوئے ہیں، کی تصاویر جاری کی ہے۔ اس ٹویٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’سیکس ٹارشن گینگ` کے تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔۔۔ انھوں نے متاثرین کو بلیک میل کر کے ان سے بڑی رقوم حاصل کی ہیں۔ اس کیس میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔`

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ایک سرکاری اہلکار نے پولیس کو بیان دیا کہ انھیں کچھ عرصے قبل ایک خاتون کی کال موصول ہوئی جنھوں نے ان سے گزارش کی کہ وہ ان کے گھر آ کر ایک مسئلے پر بات کریں۔ جب وہ ان کے گھر پہنچے تو انھیں بیڈروملے جایا گیا اور کچھ ہی دیر بعد ایک دوسرے مرد نے وہاں آ کر دونوں کی ویڈیو بنانا شروع کر دی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شکایت کنندہ کے وہاں سے جانے کے چند روز بعد انھیں بذریعہ فون کال بلیک میل کر کے پیسے مانگے گئے۔ انھیں کہا گیا کہ اگر انھوں نے پیسے نہ دیے تو یہ ویڈیو ان کے خاندان کے ساتھ اور سوشل میڈیا پر شیئر کر دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

’انکار کیا تو ملزمان نے میری ویڈیو فیس بک پر ڈال دی‘

جب عریاں تصاویر کی تجارت کی خفیہ دنیا ایک سگریٹ لائٹر کی مدد سے بےنقاب ہوئی

کشمیر کے ’بکروال‘ جن کی زندگی ’مشکلات اور مصائب کی داستان‘ ہے

سیکس ٹارشن
Getty Images

’ایسے اور بھی گینگ ہوسکتے ہیں`

یہ کیس سرینگر پولیس کے ایس ایس پی راکیش بھلوال کے پاس پہنچا تو انھوں نے ان دعوؤں پر تحقیقات شروع کی اور وہ مبینہ بلیک میلرز تک پہنچ گئے۔ ان پولیس افسر کا کہنا ہے کہ ’یہ گینگ بااثر مردوں کی معلومات جمع کرتا تھا اور گینگ نے چھ ماہ تک انھیں بلیک میل کر کے قریب 40 لاکھ روپے کما لیے تھے۔‘

راکیش بھلوال نے بتایا ہے کہ ’قریب سات سے آٹھ ایسے افراد ہمارے نوٹس میں آئے ہیں اور ابھی ہمارا کام جاری ہے۔۔۔ ممکن ہے کہ کچھ مرد سماجی دباؤ کے باعث سامنے آنا نہیں چاہتے ہوں گے۔`

پولیس نے ان تین افراد کو بلیک میلنگ اور دھمکانے کے الزامات میں گرفتار کیا ہے۔

راکیش بھلوال کا کہنا ہے کہ تفتیش کے بعد انھیں پتہ چلا ہے کہ پاکیزہ جیسے گینگ اور بھی ہو سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ لوگ دیر رات کو اپنے شکار کو ویڈیو کال کرتے ہیں۔ سامنے لڑکی برہنہ ہوتی ہے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ ریکارڈ ہو رہا ہوتا ہے۔ بعد میں یہ ریکارڈنگ انھیں بھیج کر بلیک میل کیا جاتا ہے۔‘

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بڑھتے جرائم کی وجہ کیا ہے؟

انڈیا میں جرائم پر نظر رکھنے والے ادارے 'نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو` یا این سی آر بی کے مطابق انڈیا کے زیر انتظام جموں کشمیر واحد علاقہ تھا جہاں جرائم کی اوسط نہ ہونے کے برابر تھی۔ تاہم گذشتہ تین دہائیوں کے دوران ہر سال جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بیورو کے مطابق گذشتہ دو برسوں میں انڈیا کے زیرانتظام جموں کشمیر میں جرائم کی شرح تقریباً 25 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی مہنگائی اور غربت نے جرائم کو جنم دیا ہے۔

جرائم کی بڑھتی شرح کے بارے میں بعض حلقے مختلف وجوہات بیان کرتے ہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جموں کشمیر میں 12 فیصد لوگ نہایت غریب ہیں۔ ایک کروڑ 25 لاکھ کی آبادی کے حساب سے لاکھوں افراد کے پاس دو وقت کا کھانا میسر نہیں ہے۔

تاہم صحافی ہارون ریشی کہتے ہیں کہ ’اگر 30 سال پہلے جرائم نہیں تھے تو اُس وقت سب امیر تھے۔ اُس وقت اس قدرآسودہ حالی نہیں تھی، کسی کسی کے پاس گاڑی تھی اور سب لوگآبائی مکانوں میں رہتے تھے۔`

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے لگتا ہے کہ سرمائے کی ریل پیل سے سماج میں مساوات نہیں رہی۔ دیکھا دیکھی اور کبھی کبھی مجبوری میں لوگ جرائم کرتے ہیں۔ لیکن سیکس ٹارشن کا معاملہ الگ ہے۔ (مردوں کی طرح) خواتین میں بھی بڑے مکان اور زمینیں خریدنے کی ہوس پیدا ہو رہی ہے۔ اور کچھ لوگ زیادہ پیسہ کمانے کے لیے جُرم کا شارٹ کٹ اپناتے ہیں۔`

پاکیزہ جیسے کردار شاید دنیا میں ہر جگہ ہوتے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا جرائم پیشہ افراد کے لیے آسانیاں پیدا کر رہا ہے۔

لیکن انڈیا کے زیر انتظام کشمیر گذشتہ تین دہائیوں سے کٹھن حالات سے گزرا ہے اور یہاں معاشرتی سطح پر خواتین کے ذریعے جرائم ایک حیران کن رجحان معلوم ہوتا ہے۔

علمِ سماجیات کے محقق عبدالقیوم شاہ کہتے ہیں: ’اس کو آپ ترقی کا سائیڈ ایفیکٹ کہہ سکتے ہیں۔ جب ترقی ہوتی ہے اور سماج میں مساوات کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اور پھر سوشل میڈیا پر طرح طرح کی چیزیں ہیں۔ ایسے میں لوگ فلموں سے بھی حوصلہ پاتے ہیں۔ بڑھی ڈکیتیوں کے موضوع پر بننے والی فلمیں زیادہ چلتی ہیں۔ اس کا علاج اخلاقی شعور میں اضافہ ہے۔`

ایس ایس پی راکیش بھلوال نے یہ کیس سامنےآنے کے بعد لوگوں کو آگاہی دینے کی مہم شروع کر دی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کردار سازی تو والدین اور معاشرے کا کام ہے۔ ہم صرف خبردار کر سکتے ہیں۔ ہم نے مہم چلائی ہے کہ کسی انجان شخص کی فون کالز کو کیسے ڈیل کرنا ہے۔ اور پھر اگر اس واردات جیسا بھی کوئی معاملہ ہو تو شرمانا نہیں ہے، پولیس سے رابطہ کرنا ہے۔`


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
سائنس اور ٹیکنالوجی
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.