bbc-new

انڈیا کی حکومت بار بار پاکستان کے سرکاری اکاؤنٹس تک رسائی کیوں روک رہی ہے؟

انڈیا سے @GovtofPakistan دیکھنے کی کوشش کرنے والوں کو یہ پیغام لکھا ملتا ہے کہ ’اکاؤنٹ ود ہیلڈ‘ یعنی اس اکاؤنٹ تک رسائی روک دی گئی ہے۔
نعت
Getty Images

سوشل میڈیا کمپنی ٹوئٹر نے انڈیا میں حکومت پاکستان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ @GovtofPakistan تک رسائی قانونی وجوہ کی بنیاد پر روک دی ہے۔ یہ حالیہ مہینوں میں اس نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔

دہلی سے بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق انھیں صرف حکومتِ پاکستان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ تک رسائی نہیں ہے، البتہ وہ دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اسی اکاؤنٹ سے منسلک فیس بک، یوٹیوب اور انسٹاگرام صفحات دیکھ سکتے ہیں۔

انڈیا سے @GovtofPakistan تک رسائی کی کوشش کرنے والوں کو یہ پیغام لکھا ملتا ہے کہ ’اکاؤنٹ ود ہیلڈ‘ یعنی اس اکاؤنٹ تک رسائی روک دی گئی ہے۔

اس اکاؤنٹ پر ایک نوٹ نظر آتا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ انڈیا میں اس اکاؤنٹ تک رسائی کو ’قانونی مطالبہ کے بعد‘ روک دیا گیا ہے۔

https://twitter.com/ANI/status/1576072615407812608?s=20&t=B9J8V4kFEn1seSTBrclE_A

’انڈین حکومت مقامی قوانین کی خلاف ورزی کی آڑ میں پاکستانی مواد سنسر کر رہی ہے‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کے فوکل پرسن فار ڈیجیٹل میڈیا ابوبکر عمر کا کہنا تھا کہ انڈین حکومت ’اپنے مقامی قوانین کی خلاف ورزی‘ کی آڑ میں پاکستانی مواد کو سنسر کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ @GovtofPakistan کا مواد پبلک ہے (یعنی سب اسے دیکھ سکتے ہیں)، ’سوائے بدقسمتی سے انڈیا میں رہنے والے لوگوں کے جو خود مواد دیکھ کر، اسے چیک کرکے اس کے حوالے سے فیصلہ کر سکتے تھے، مگر انھیں اب اس تک رسائی نہیں رہی۔‘

ابوبکر عمر کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کوباضابطہ طور پر ٹوئٹر کے ساتھ اٹھائیں گے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اس حوالے سے بی بی سی کے سوالات کا جواب نہیں دیا اور نہ ہی وزارت کی جانب سے اب تک کوئی بیان سامنے آیا ہے۔

یاد رہے یہ پہلا موقع نہیں ہے جب انڈیا میں حکومتِ پاکستان سے منسلک اکاؤنٹ تک رسائی روکی گئی ہو۔

اس اکاؤنٹ تک رسائی جون میں بھی روکی گئی تھی لیکن بعد میں اسے فعال کر دیا گیا اور انڈین صارفین @GovtofPakistan کا مواد دیکھ سکتے تھے۔ تاہم اب پھر سے اس پر وہی نوٹس نظر آ رہا ہے۔

یا رہے رواں برس جون میں ٹوئٹر نے پاکستان میں موجود یا پاکستان سے وابستہ متعدد اکاؤنٹس تک رسائی قانونی وجوہات کی بنیاد پر انڈیا میں روک دی تھی۔

اس پر احتجاج کرتے ہوئے پاکستان کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے چار اکاؤنٹس کے نام ٹویٹ کیے تھے جن کی رسائی انڈیا میں روکی گئی ہے۔ ان اکاؤنٹس میں پاکستان کا نیویارک میں اقوام متحدہ کا مشن اور دوسرے ملکوں (ترکی، ایران اور مصر وغیرہ) میں چند سفارت خانے بھی شامل تھے۔

https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1541489771725348865?s=20&t=ZJgr4pYMcWB3KpTGRw98vw

اس وقت ٹوئٹر کا کہنا تھا کہ ’جیسا کہ ہماری ’کنٹری ود ہیلڈ پالیسی‘ میں وضاحت کی گئی ہے، درست قانونی مطالبے کے جواب میں کچھ مواد تک رسائی کو روکنا ضروری ہو سکتا ہے۔‘

ٹوئٹر نے یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ کارروائیاں انڈیا کے کن مخصوص قوانین کے تحت کی گئیں تھیں۔

تاہم دہلی سے بی بی سی کے نامہ نگار نیاز فاروقی کے مطابق صارفین کی جانب سے شیئر کیے گئے سکرین شاٹس اور اس طرح کے گذشتہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں آئی ٹی ایکٹ 2000 کے سیکشن 69A کے تحت کی گئیں۔

انڈیا کے آئی ٹی قانون کا یہ سیکشن حکومت کو اجازت دیتا ہے کہ وہ ’انڈیا کی خودمختاری اور سالمیت کے مفاد میں، اس کی دفاع، سلامتی، غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات یا امن عامہ کے مفاد میں یا اس سے متعلق کسی بھی جرم کو بھڑکانے سے روکنے کے لیے کسی ذریعے تک عوام کی رسائی کو روک سکے۔‘

لداخ میں جون 2020 میں انڈیا اور چین کے سرحدی تنازعے کے بعد بھی قانون کے اسی سیکشن کے تحت انڈیا نے چین میں مقیم سوشل میڈیا کمپنیوں اور ایپس پر پابندی لگائی تھی۔

لیومین ڈیٹا بیس، جو کہ قانونی شکایات اور آن لائن مواد کو ہٹانے کی درخواستوں کو اکٹھا کرتا ہے اور ان کا تجزیہ کرتا ہے، سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جون 2022 میں انڈین حکومت نے حکومتِ پاکستان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سمیت پاکستان سے تعلق رکھنے والے دیگر اکاؤنٹس کی بھی انڈیا میں رسائی روکنے کا حکم دیا تھا۔

ان میں کئی پاکستانی نیوز چینلز، صحافیوں کے علاوہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک بھی شامل تھیں۔

انڈی صحافی رانا ایوب کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’اگر انڈیا میں ہندوؤں کو اس طرح دکھایا جائے تو پولیس کارروائی نہیں کرے گی‘

انڈیا میں کئی پاکستانی ٹوئٹر اکاؤنٹس تک رسائی ناممکن کیوں؟

پاکستان میں ٹوئٹر تک رسائی میں دشواری: تکنیکی خرابی یا سرکاری بندش؟

اے این آئی کے مطابق اگست میں انڈیا نے پاکستان سے وابستہ آٹھ یوٹیوب نیوز چینلز کو بھی بلاک کیا تھا، جس میں ایک پاکستان سے چلایا جا رہا تھا اور ایک فیس بک اکاؤنٹ بھی شامل تھا جس پر مبینہ طور پر ’جعلی اور انڈیا مخالف مواد‘ پوسٹ کرنے کا الزام تھا۔

انڈین حکومت نے انڈیا کے خلاف نفرت پھیلانے والے 100 یوٹیوب چینلز، چار فیس بک پیجز، پانچ ٹوئٹر اکاؤنٹس اور تین انسٹاگرام اکاؤنٹس کو بھی بلاک کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین چاہتے ہیں کہ پاکستان بھی بدلے میں ایسا ہی جواب دے کر سکور برابر کرے۔ تاہم انڈین سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے خاصا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ارن تھنگراج نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’ہم جلد ہی شمالی کوریا جیسے بن جائیں گے‘۔ جبکہ نوید نے لکھا کہ ’جو ملک خود کو سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے، وہاں یہ حال ہے۔‘

بیرونِ ملک مقیم ایک انڈین صارف نے لکھا اس کے پیچھے جو بھی احمقانہ وجوہات ہیں، یہ پابندی صرف انڈیا تک محدود ہے۔ ہم بیرون ملک سے اس اکاؤنٹ تک رسائی رکھتے ہیں۔

تلک نے انڈین حکومت کو شاباش دیتے ہوئے لکھا کہ اس بہادرانہ اقدام سے انڈیا میں مہنگائی، بے روزگاری وغیرہ سب میں کمی آئے گی۔

جبکہ کیٹلیا نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ بہت سے انڈین شہریوں نے سوال کرنا چھوڑ دیا ہے اور اس سے بھی برا یہ ہے کہ انھوں نے حکومت کے اقدامات کے بارے میں متجسس ہونا چھوڑ دیا ہے۔۔۔ وہ اس حکومت کے ہر اقدام کی تعریف کرتے ہیں۔۔۔ جمہوریت ایسے ہی اندھیروں میں مر جاتی ہے۔ اگر عوام کی معلومات تک رسائی نہیں ہو گی تو اس کا نتیجہ آمرانہ جمہوریت کی شکل میں نکلے گا۔‘


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.