bbc-new

برائٹن اینڈ ہوو: برطانیہ کا سرسبز شہر جو دنیا کو غذائی قلت کے خاتمے کا سبق دے رہا ہے

اس شہر میں بھوک اور خوراک کے ضیاع کا توڑ نکالنے کا عزم اس کے نئے ترقی یافتہ رویے کا حصہ ہے۔ یہاں 75 مقامات پر لوگ خود خوراک اگا سکتے ہیں اور ایک ہزار گھرانے 40 مقامات پر کھاد بنانے میں مصروف ہیں۔

سورج کی روشنی میں ساؤتھ ڈاؤنز نیشنل پارک کی سرسبز پہاڑیوں سے گزرتے ہوئے میں وائلڈنگ فارم کی جانب بڑھا تو سڑک کے آس پاس موجود درختوں کا سایہ ایک پرسکون منظر پیش کر رہا تھا۔

اس چراہ گاہ میں جابجا گرنے والے درختوں کی لکڑی سے تراشے ہوئے مجسمے موجود تھے۔ میں یہاں زندگی میں پہلی بار فصل کی کٹائی کا تجربہ حاصل کرنے آیا تھا لیکن ایک مقصد اور بھی تھا، یورپ کے سب سے متاثر کن اور پائیدار خوراک کے پروگرام میں شامل ہونا۔

میں سسیکس گلیننگ نیٹ ورک کا تازہ ترین رکن تھا۔ یہ نیٹ ورک مقامی لوگوں اور رضاکاروں کی مدد سے علاقے کے کھیتوں میں موجود اضافی فصل کو خوراک کی کمی کا سامنا کرتے افراد کے لیے کھانے کی شکل دیتا ہے۔

ایک گھنٹے کے اندر، میں نے جو پھلیاں اکھٹی کی تھیں، قریبی شہر برائٹن اینڈ ہوو کے کمیونٹی کچن کی جانب روانہ ہو چکی تھیں جہاں موجود نیٹ ورک روزانہ کی بنیاد پر شہر میں سینکڑوں لوگوں کو بھوکا نہیں سونے دیتا۔

اس شہر میں بھوک اور خوراک کے ضیاع کا توڑ نکالنے کا عزم اس کے نئے ترقی یافتہ رویے کا حصہ ہے۔ برطانیہ کا ایل بی جی ٹی دارالحکومت کہلایا جانے والا یہ شہر صرف اسی وجہ سے مشہور نہیں۔

گذشتہ 12 سال سے یہ ملک کا وہ واحد شہر ہے جس نے گرین پارٹی کے ایک رکن کو اپنی نمائندگی کے لیے چنا۔ اس شہر کو دنیا بھر سے مہاجرین کو خوش آمدید کہنے کی وجہ سے بھی شہرت ملی جبکہ مئی میں شیفس پینسل نامی میگذین نے اسے دنیا میں سبزی خوروں کا دارالحکومت قرار دیا۔

2020 میں برائٹن اینڈ ہوو برطانیہ کا وہ پہلا شہر بنا جسے سسٹینیبل فوڈ پلیسز نامی تنظیم، جو خوراک کے ضیاع اور غذائی غربت کے خاتمے کے لیے کام کرتی ہے، کی جانب سے گولڈ سسٹینیبل فوڈ سٹیٹس دیا گیا۔

شہر میں جاری ایسے منصوبوں کی طویل فہرست ہے۔ یہاں 75 مقامات پر لوگ خود خوراک اگا سکتے ہیں اور ایک ہزار گھرانے 40 مقامات پر کھاد بنانے میں مصروف ہیں۔

عطیات سے چلنے والی کوکنگ کلاسز کے ذریعے سالانہ پانچ لاکھ ایسے افراد کو مفت کھانا فراہم کیا جاتا ہے جو ذہنی امراض کا شکار ہونے کی وجہ سے غذائی غربت کا سامنا کرتے ہیں۔

اس شہر نے ایک ہی لڑی میں سب کچھ کیسے پرویا ہے، اس کی ایک مثال ریئل جنک فوڈ پراجیکٹ کا گارڈنر کیفے ہے جسے رضاکار چلاتے ہیں۔ وسطی نارتھ لین علاقے میں دوکانوں کے درمیان موجود اس کیفے میں جو کھانا دیا جاتا ہے وہ اس اضافی خوراک پر مشتمل ہوتا ہے جسے شہر بھر کی سپر مارکیٹس اور ریسٹورنٹس سے اکھٹا کیا جاتا ہے۔

برائٹن اینڈ ہوو فوڈ پارٹنرشپ کے ڈائریکٹر وک بوررل کہتے ہیں کہ ’کھانا لوگوں کو اکھٹا کرنے اور زندگیاں بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔‘

یہ پروگرام شہر میں پائیدار خوراک کے حوالے سی کی جانے والی کوششوں کا اہم حصہ ہے جس کے 130 سے زیادہ منصوبوں کے تحت معذور نوجوانوں کو صحت بخش کھانا پکانا بھی سکھایا جاتا ہے اور ڈیمینشیا کے شکار ادھیڑ عمر لوگوں کے لیے مخصوص مقامات پر خوراک اگانے کی کلاسز بھی دی جاتی ہیں۔

اس پروگرام کے تحت ایسی کلاسز کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے جن میں شوقین افراد کو جاپان، اٹلی اور ازبکستان جیسے متنوع ممالک کے پکوان کی ترکیبیں بھی سکھائی جاتی ہیں۔

ایک شام میں نے 60 پاؤنڈ ادا کیے اور ایسی ہی ایک کلاس میں شہر کے معروف میکسیکن شیف ڈئیگو ریکوئرٹے سے لاطینی امریکہ کے لذیذ کھانے سیکھنے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ یہاں سے کمائی جانے والی رقم دیگر منصوبوں پر خرچ کی جاتی ہے۔ جلد ہی ہم میکسیکو کے لذیذ پکوان تیار کر رہے تھے۔

اس شہر کے غذائی منصوبوں کو اب شہرت ملنا شروع ہوئی ہے لیکن یہ بلکل نئے نہیں ہیں۔ بورل کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام 2003 میں شروع ہوا جب شہر کی کونسل، مقامی شہریوں اور کوکنگ کلبز نے مل کر برائٹن اینڈ ہوو فوڈ پارٹنرشپ کی بنیاد رکھی۔

ان کے سامنے فوڈ میٹرز نامی مقامی گروپ کی مثال موجود تھی جو پائیدار خوراک پر کام کر رہا تھا۔

فارم پر پھلیاں اکھٹا کرنے اور کوکنگ کلاس کے بعد میں پیاس بجھانے اولڈ ٹری بریوری کی جانب بڑھا۔ اسے 2014 میں ایک سوشل انٹر پرائز کے طور پر قائم کیا گیا تھا جہاں مقامی سیب سے تیار کردہ مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔

ٹام ڈینیئل، جو اس کے مالک ہیں، نے مجھے بتایا کہ وہ کس طرح شہر بھر میں لگائے گئے متعدد چھوٹے چھوٹے مقامی باغات، جو سکولوں اور ٹرین سٹیشن پر بھی ہیں، سے مقامی سیب اکھٹا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

قدیم زمبابوے کے عظیم شہر کے آثارِ قدیمہ جنھیں یورپ نے مٹانے کی کوشش کی

’دنیا کے امیر ترین دارالحکومت‘ کے نوجوان شہر چھوڑ کر گاؤں واپس کیوں جا رہے ہیں؟

’13 آسمانوں کا گھر‘ جس کو تعمیر کرنے والے وقت کی پوجا کرتے تھے

سنیچر کی صبح میں ہفتہ وار کسانوں کے بازار کی جانب نکلا۔ فلورنس روڈ پر مقامی سبزیوں اور پنیر جیسی مصنوعات دکھائی دیں۔ یہاں سے ہونے والی کمائی کا ایک حصہ راک فارم جیسے منصوبوں کو عطیہ کیا جاتا ہے جو شہر سے 12 میل دور ایسی جگہ ہے جہاں لوگ قدرتی حسن سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں اور فصلیں بھی اگاتے ہیں۔

سسیکس کی فوڈ وین ایک چلتا پھرتا بازار ہے جسے ایڈ جوہنسٹن نے لوگوں تک مقامی فارم پہنچانے کے نعرے سے شروع کیا تھا۔ اس وین کے ذریعے ہفتے میں پانچ دن شہر کے مختلف مقامات پر سسیکس کے 20 فارمز سے حاصل مصنوعات بیچی جاتی ہیں۔

ایڈ جوہنسٹن کہتے ہیں کہ ’ہمنے محسوس کیا کہ لوگ اس چیز کو بھولتے جا رہے ہیں کہ خوراک کیسے اگائی جاتی ہے۔ ہمیں دنیا بھر سے خوراک منگوانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے مقامی معیشت کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔‘

اس مہم میں برائٹن یونیورسٹی بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ یہاں پائیدار خوراک پر ایسی تحقیق ہو رہی ہے جسے دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔

کیٹرین بوہن یونیورسٹی میں ایک محقق ہیں۔ وہ شہری حصوں میں ایسے باغ لگانے کی حامی ہیں جہاں شہری اپنی خوراک خود اگا سکیں۔

اقوام متحدہ اور یونیسکو نے اس تحقیق کے نتائج کا نوٹس لیا ہے جن کے مطابق ایسے باغ ماحولیاتی آلودگی کی کمی کا باعث ہوتے ہیں، اور شہریوں کو صحت افزا غذا بھی ملتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اس کے اور فوائد بھی ہیں۔ بارش کا پانی بہتر طریقے سے جذب ہوتا ہے جس سے سیلاب کا خدشہ کم ہو جاتا ہے، ہوا کا میعار بہتر ہوتا ہے اور درجہ حرارت میں بھی کمی آتی ہے۔‘

ان کی تحقیق نے جرمنی اور جاپان میں ملتے جلتے منصوبوں کو جنم دیا ہے۔ ٹوکیو کے نریما وارڈ میں برائٹن جیسے باغ متعارف کروائے گئے ہیں جبکہ برلن اور کولون نے ایسی کونسل تشکیل دیں ہیں جن کا کردار برائٹن اینڈ ہوو فوڈ پارٹنرشپ تنظیم جیسا ہے۔

اپنے آخری دن میں نے ایک خصوصی پب ’بوی‘ کا رخ کیا جسے 2014 میں کھولا گیا تھا۔ اس کی دلچسپ بات یہ ہے کہ 800 افراد اس کے شیئر ہولڈر ہیں، اور فی شیئر قیمت 10 پاؤنڈ سے شروع ہوتی ہے۔

شراب نوشی کے علاوہ بوی میں مقامی لوگوں کو کوکنگ کلاسز بھی دی جاتی ہیں جبکہ ہفتہ وار بنیادوں پر لگائے جانے والے بازار میں تازہ پھل اور سبزیاں بیچی جاتی ہیں۔ یہاں لاطینی ڈانس پر مبنی ورزش کی کلاسز اور کبھی کبھار ایل جی بی ٹی نائٹس کا بھی انعقاد ہوتا ہے۔

یہاں کھانا کھانے کے بعد میں پب کے ایک کونے میں شراب کی چسکیاں لینے بیٹھ گیا جہاں مقامی پھل کے درخت کا سایہ میسر تھا۔

میں نے سیب اور آلو بخارے کے درخت کے درمیان سبزی کے چھوٹے سے گملے کو دیکھا تو اسے سراہے بغیر نہیں رہ سکا اور یہ سوچنے لگا کہ اس وسیع و عریض شہر میں جہاں پائیدار خوراک کا جنون سر چڑھ کر بول رہا ہے نہ جانے یہاں اگنے والی سبزیوں کا انجام کیا ہو گا۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.