bbc-new

الیکٹورل بانڈز: انڈیا کی سیاست میں ’ناجائز دولت کے استعمال کو روکنے والے‘ الیکٹرول بانڈز متنازع کیوں ہیں؟

انڈیا میں الیکٹورل بانڈز متعارف کرانے کا مقصد یہ تھا کہ ملک کی سیاست میں استعمال ہونے والے غیر قانون دولت کا راستہ روکا جا سکے لیکن ان بانڈز کے اجرا کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا چکا ہے اور اس اقدام کو ’جمہوریت میں بگاڑ‘ سے تشبیہہ دی جا رہی ہے۔
Congress MPs protest against the issue of electoral bonds in the Parliament premises during the Winter Session, demanding that Prime Minister Narendra Modi breaks his silence over it, on November 22, 2019 in New Delhi, India.
Getty Images
حزب اختلاف کی جماعتیں الیکٹورل بانڈز کے خلاف کئی مظاہرے کر چکی ہیں

انڈیا میں الیکٹورل بانڈز متعارف کرانے کا مقصد یہ تھا کہ ملک کی سیاست میں استعمال ہونے والے غیر قانون دولت کا راستہ روکا جا سکے لیکن ان بانڈز کے اجرا کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا چکا ہے اور اس اقدام کو ’جمہوریت میں بگاڑ‘ سے تشبیہہ دی جا رہی ہے۔

دو برس کے بعد اب سپریم کورٹ دوبارہ اس معاملے کا جائزہ لینے جا رہی ہے اور الیکٹورل بانڈز کے خلاف دی جانے والی درخواستوں کی سماعت ایک مرتبہ پھر شروع ہونے والی ہے۔ یاد رہے کہ انڈیا میں سیاسی پارٹیوں کی فنڈنگ کے لیے الیکٹورل بانڈز متعارف کرائے گئے تھے اور ان بانڈز کے ذریعے دی جانے والی رقم پر سود بھی نہیں لگتا۔

سنہ 2018 میں متعارف کرائے جانے والے یہ بلاسود بانڈز ایک خاص مدت کے لیے جاری کیے جاتے ہیں جن کے تحت سیاسی جماعتوں کو ایک ہزار سے لے کر ایک کروڑ روپے تک کی رقم دی جا سکتی ہے۔

اس اقدام کے تحت انڈیا کا کوئی بھی شہری یا کمپنی سال کے مخصوص دنوں میں الیکٹورل بانڈز خرید کر اپنی پسند کی سیاسی جماعت کی مالی مدد کر سکتا ہے اور مذکورہ سیاسی جماعت 15 دن کے اندر یہ رقم کسی بھی سرکاری بینک سے نکلوا سکتی ہے۔

قانون کے مطابق ان بانڈز کے ذریعے کسی بھی ایسی سیاسی جماعت کو پیسے دیے جا سکتے ہیں جس نے قومی یا ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں ایک فیصد سے کم ووٹ نہ حاصل کیے ہوں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک اس سکیم کے تحت ملک بھر میں 19 قطسوں میں ڈیڑھ ارب روپے کے بانڈز فروخت ہو چکے ہیں۔ اندازے کے مطابق اب تک سب سے زیادہ فنڈنگ وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت، بھارتیہ جنتا پارٹی کو ملی ہے۔

سنہ 2019 میں الیکٹورل بانڈز کے تحت دی جانے والی کل رقم کا تین چوتھائی بی جے پی کو ملا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت، کانگریس پارٹی کے حصے میں صرف نو فیصد رقم آئی ہے۔

انڈیا میں انتخابات پر نظر رکھنے والی تنظیم، ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹِک ریفارمز (اے ڈی آر) کے مطابق سنہ 2019 میں ملک کی سات بڑی سیاسی جماعتوں کو ملنے والی فنڈنگ کا 62 فیصد الیکٹورل بانڈز سے آیا تھا۔

Map
BBC

الیکٹورل بانڈز کو متعارف کرانے کا مقصد ملکی سیاست کو ناجائز پیسے سے پاک کرنا اور سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کو زیادہ شفاف بنانا تھا، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سکیم کا نتیجہ الٹ نکلا ہے۔ ان ناقدین کے خیال میں الیکٹورل بانڈز کے معاملے کولوگوں کی نظروں سے اوجھل رکھا جا رہا ہے۔

ایک چیز تو واضح ہے اور وہ یہ کہ اس بات کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے کہ کون سا بانڈ کس نے خریدا تھا اور اِس بانڈ کے تحت دی جانے والی رقم کس سیاسی جماعت کو ملی۔ اے ڈی آر کا کہنا ہے کہ یہی وہ چیز ہے جو الیکٹورل بانڈز کو 'غیر آئینی' بنا دیتی ہے کیونکہ عام لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کسی سیاسی جماعت کو پیسے کن ذرائع سے مل رہے ہیں۔

ناقدین کے خیال میں یہ کہنا بھی درست نہیں کہ الیکٹورل بانڈز کے ذریعے رقم دینے والے کا نام خفیہ ہی رہتا ہے۔

ان کے مطابق چونکہ سرکاری بینکوں کے پاس بانڈ خریدنے والے شخص یا کمپنی کا اندراج موجود ہوتا ہے، اس لیے حکمران جماعت آسانی سے یہ معلومات حاصل کر کے عطیہ دینے والوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

اے ڈی آر کے شریک بانی، جگدیپ چھوکر کے مطابق 'ان بانڈز کے ذریعے حکمران جماعت کو (دوسری جماعتوں) پر سبقت مل جاتی ہے جو کہ غیر منصفانہ چیز ہے۔'

جب سنہ 2017 میں الیکٹورل بانڈز جاری کرنے کا پہلی مرتبہ اعلان کیا گیا تھا تو الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ ان بانڈز کی وجہ سے انتخابات میں شفافیت کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس موقع پر انڈیا کے سٹیٹ بینک، وزارت قانون اور بہت سے ارکانِ اسمبلی کا بھی یہی کہنا تھا کہ بانڈزسے ملکی سیاست میں ناجائز دولت کی ریل پیل ختم نہیں ہوگی۔

اگلے ایک برس تک الیکشن کمیشن اس معاملے پر پاؤں گھسیٹتا رہا اور آخر کار اس نے بھی بانڈز کی حمایت کرنا شروع کر دی اور کچھ عرصہ بعد عدالتوں نے بھی اس معاملے پر اپنا فیصلہ مؤخر کر دیا۔

انڈیا کی سیاست میں مبینہ ناجائز دولت کے استعمال کے بارے میں ایک مشہور کتاب کے مصنف اور ایک تھِنک ٹینک سے منسلک ماہر، ملن ویشنو کہتے ہیں کہ 'الیکٹورل بانڈز کے ذریعے دراصل حکومت نے(سیاست میں) غیر شفافیت کو قانونی شکل دے دی ہے۔'

بانڈز کے ذریعے 'فنڈز دینے والے جتنا پیسہ چاہیں پارٹی کو دے سکتے ہیں اور کسی بھی فریق کے لیے یہ ضر وری نہیں ہے کہ اس معاملے کی تفصیل بتائے۔ اگر اس چیز کو 'شفافیت' کےنام پر بیچا جا رہا ہے تو تو یہ واقعی لفظ 'شفافیت' کی بڑی انوکھی تعریف ہے۔

Indian supporter listens as Indian Prime Minister Narendra Modi (not pictured) delivers a speech during a rally ahead of Phase VI of India's general election in New Delhi on May 8, 2019.
AFP
اندازے کے مطابق انڈیا میں سنہ 2019 کے عام انتخابات پر سات ارب روپے خرچ کیے گئے تھے

کوئی بھی شخص اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ انڈیا کو اپنے ہاں سیاسی جماعتوں کی مالی مدد کے عمل کو زیادہ شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔

انتخابات ایک مہنگا کام ہے اور انتخابات میں زیادہ تر پیسہ کاروباری لوگ یا کمپنیاں لگاتی ہیں۔ اندازے کے مطابق انڈیا میں سنہ 2019 کے عام انتخابات پر سات ارب روپے خرچ کیے گئے تھے جو کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات پر خرچ کی جانے والی رقم کے بعد دوسری بڑی رقم تھی۔

انڈیا میں ووٹروں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سنہ 1952 میں انڈیا میں ووٹ کا حق رکھنے والوں کی تعداد صرف چار لاکھ تھی جبکہ سنہ 2019 کے انتخابات تک یہ تعداد90 کروڑ تک پہنچ چکی تھی۔

ووٹرز کی اس بڑھتی ہوئی تعداد کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں تک پہنچنے کے لیے اب امیدواروں کو زیادہ پیسے کی ضرورت ہے۔ اور ملک میں تین سطح کے انتخابات، یعنی دیہات، ریاست اور قومی سطح پر انتخابات، کے نظام کی وجہ سے الیکشن کا مرحلہ بھی بہت طویل ہوتا ہے۔

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اب انتخابات میں مقابلہ بازی کا رجحان بھی بڑھ گیا ہے۔ قانون کے مطابق سیاسی جماعتیں ہر سال اپنی آمدن اور اخراجات کی تفصیل الیکشن کمیشن میں جمع کراتی ہیں۔

اے آر ڈی کے مطابق الیکشن کمیشن کے ریکارڈ میں 'نامعلوم ذرائع' کے تحت جو رقوم جمع کرائی جاتی ہیں ، الیکٹورل بانڈز کا شمار ان ہی میں ہوتا ہے، جو کہ سیاسی جماعتوں کی کل آمدن کے 70 فیصد سے زیادہ ہوتی ہے۔ مسٹر ویشنو کہتے ہیں کہ الیکٹورل بانڈز کی سکیم نے انڈیا میں انتخابی اصلاحات کی مہم کو کئی عشرے پیچھے دھکیل دیا ہے۔'

تاہم، بی جے پی کے نائب صدر، بیجائنت جے پانڈا اور کئی دیگر لوگ اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’الیکٹورل بانڈز سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی فنڈنگ کا عمل زیادہ صاف ہو گیا ہےکیونکہ اس سے پہلے سیاسی جماعتوں کی تقریباً تمام فنڈنگنقدی سے بھرے ہوئے سوٹ کیسوں کی شکل میں ہوتی تھی، اور بعض اوقات یہ پیسے انتہائینامناسب ذرائع سے موصول ہوتے تھے۔‘

مسٹر پانڈا کے مطابق سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کے حوالے سے یہ سوال پوچھا جانا چاہیے کہ آیا یہ جائز ذرائع سے ہے، اور یہ فنڈنگ کہاں سے آ رہی ہے، اس میں شفافیت ہونی چاہیے۔ان کے بقول الیکٹورل بانڈز ایک جائز طریقہ ہے اور اس سے (سیاست میں) شفافیت کے بہت سے مقاصد حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

’اگرچہ اس حوالے سے بحث ہو سکتی ہے کہ مزید اصلاحات اور اس سے زیادہ شفافیت کی ضرورت ہے، لیکن یہ کہنا بالکل احمقانہ ہوگا کہ بانڈز کی وجہ سے بہتری نہیں آئی ہے اور حالات ماضی سے زیادہ بُرے ہیں۔‘

مسٹر ویشنو کے خیال میں بانڈز سے منسلک خرابیوں سے نمٹنے کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ الیکٹورل بانڈز جاری رکھنے کی اجازت دے دی جائے لیکن ’صرف اس صورت میں جب تمام فریقوں کی جانب سے سو فیصد شفافیت کا مظاہرہ کیا جائے۔‘

ان کے خیال میں اس سے ناجائز ذرائع سے فنڈنگ کا بڑا مسئلہ حل ہو سکتا ہے، تاہم الیکٹورل بانڈز سے منسلک دوسرے مسائل کو بھی حل کرنا پڑے گا۔

ان مسائل میں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فنڈ دینے والا شخص یا کمپنی بانڈز تو جائز آمدن سے خرید لے، لیکن پھر ان بانڈز کو کسی اور شحص کے ہاتھ فروخت کر دے جس کی آمدن ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی ہو (یعنی ایسا پیسہ جو غیر قانونی طریقے سے بنایا گیا ہو اور اس پر ٹیکس بھی نہ دیا گیا ہو)۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انڈیا میں سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کے نظام میں اصلاحات کا سفر طویل اور کٹھن ہے۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.