bbc-new

ایلون مسک کی کمپیوٹر چِپ: ’ایسے مریضوں کا علاج ممکن ہو سکے گا جو چل، بول یا دیکھ نہیں سکتے‘

امریکی ارب پتی ایلون مسک کو امید ہے کہ ان کی کمپنی نیورا لنک جلد ہی ایک انسانوں کے دماغ میں وائرلیس چپ نصب کرنے کے قابل ہو جائے گی جو اندھے پن کا علاج ممکن بنا سکے گی۔
ایلون مسک
Getty Images

امریکی ارب پتی ایلون مسک کو امید ہے کہ ان کی کمپنی نیورالنک جلد ہی انسانوں کے دماغ میں ایک وائرلیس چِپ نصب کرنے کے قابل ہو جائے گی جس سے اندھے پن کا علاج ممکن ہو سکے گا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بدھ کے روز ایلون مسک نے کہا کہ ان کی کمپنی چھ ماہ میں اس وائرلیس چِپ کے انسانی ٹرائلز کا آغاز کر دے گی۔

نیورالنک ایک ایسی چپ تیار کر رہی ہے جو دماغ میں نصب کی جا سکے گی اور ان کے مطابق اس کی مدد سے ایسے مریضوں کا علاج ممکن ہو گا جو معذوری کی وجہ سے چل یا بول نہیں پاتے۔

ایلون مسک کے مطابق اس چپ کے ذریعے بینائی بھی بحال ہو سکے گی۔

سان فرانسیسکو بے اور آسٹن کے علاقے میں موجود نیورا لنک کمپنی نے حال ہی میں جانوروں پر اس چپ کے تجربات کیے ہیں۔

اس وقت کمپنی امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ایجنسی کی جانب سے انسانوں پر تجربات کے آغاز کرنے کے لیے اجازت نامے کا انتظار کر رہی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایلون مسک نے بدھ کے دن کہا کہ ’ہم بہت محتاط رہنا چاہتے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یہ درست طریقے سے کام کرتی ہے اس سے پہلے کہ اس چپ کو انسانی دماغ میں نصب کرنے کا تجربہ کیا جائے۔‘

نیورالنک کے ہیڈکوارٹر میں مخصوص افراد سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی کمپنی کافی تیز رفتاری سے اس چپ پر کام کر رہی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’جب انسانوں کی بات ہو تو پہلے پہل ایسا لگے گا کہ اس چِپ پر بہت سست رفتاری سے کام ہو رہا ہے، لیکن ہم ہر ممکن طریقہ آزما رہے ہیں تاکہ اسے درست بنایا جا سکے اور جب انسانی دماغ تک بات پہنچے تو زیادہ دیر نہ لگے۔‘

نیورالنک کی جانب سے اس ڈیوائس کے ذریعے بینائی کی بحالی اور ایسے افراد کے پٹھوں میں حرکت کو ممکن بنانا ہے جو کمزور ہو چکے ہیں۔

ایلون مسک نے یہ بھی کہا کہ ’اگر کسی کی بینائی شروع سے ہی نہیں تھی، یعنی وہ اندھے پن کے ساتھ پیدا ہوئے تھے، تو ہمارا خیال ہے کہ ہم اس کی بینائی بھی بحال کر سکتے ہیں۔‘

ایلون مسک نے اس تقریب سے 31 اکتوبر کو خطاب کرنا تھا تاہم اسے مؤخر کر دیا گیا اور کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ایک سال قبل نیورالنک کی آخری عوامی سطح پر نمائش میں ایک بندر دکھایا گیا تھا جس کے دماغ میں کمپوٹر چپ نصب کی گئی تھی اور وہ خود ہی ایک کمپیوٹر گیم کھیل رہا تھا۔

ایلون مسک، جو ٹیسلا، ٹوئٹر اور سپیس ایکس کے بھی مالک ہیں، اپنے خیالات اور منصوبوں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں جن میں مریخ پر انسانی کالونی بسانا بھی شامل ہے۔

سنہ 2016 میں جب انھوں نے نیورالنک کمپنی کا آغاز کیا تو اس کے پیچھے بھی کچھ ایسا ہی منصوبہ تھا۔

ان کا ارادہ ہے کہ وہ ایسی کمپیوٹر چپ بنائیں جو دماغ کو اس قابل بنا سکے کہ پیچیدہ برقی آلات کو کنٹرول کر سکے اور آخر کار معذور افراد کو چلنے پھرنے کے قابل بنا سکے۔

اس کے علاوہ وہ پارکنسن اور الزائمر جیسے دماغی امراض کا علاج بھی تلاش کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی نژاد کینیڈین سائنسدان ڈاکٹر نوید امام سید کی وہ ایجاد جس سے مرگی کا علاج ممکن ہو گا

برین چِپ: ایک انقلابی قدم جس سے بہتر، تیز تر اور سستے وکیل دستیاب ہوں گے

ہاتھ میں لگے مائکروچِپ امپلانٹس کی مدد سے بل ادا کریں

ایلون مسک
Getty Images

تاہم نیورالنک ان کے دیے جانے والے شیڈول سے بہت پیچھے ہے۔ 2019 میں ایلون مسک نے کہا تھا کہ ان کو ایف ڈی اے کی جانب سے 2020 کے اختتام تک منظوری مل جائے گی۔ اس کے بعد 2021 میں انھوں نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ اسی سال انسانی ٹرائل شروع ہو جائیں گے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس سال کے آغاز پر ایلون مسک نے اپنی مد مقابل کمپنی سنکرون سے سرمایہ کاری کے لیے رجوع کیا تھا جب انھوں نے نیورالنک کے ملازمین سے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ سست رفتاری سے کام کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سنکرون نامی کمپنی نے جولائی میں ایک کمپیوٹر چپ امریکہ میں ایک مریض کے دماغ میں نصب کرنے میں پہل کی تھی۔

اس کمپنی کو 2021 میں انسانی تجربے کے لیے سرکاری منظوری مل چکی تھی اور اب تک آسٹڑیلیا میں چار لوگوں پر تجربات مکمل کیے جا چکے ہیں۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.