bbc-new

امریکہ کی پہلی خاتون جاسوس جنھوں نے صدر لنکن کے قتل کے منصوبے کو ناکام بنایا

کیٹ وارن کے لیے یہ بہت آسان بن چکا تھا کہ اُن کے پس منظر سے بےخبر جرائم پیشہ مرد شیخی بگھارنے کے چکر میں ان کے سامنے اپنے مجرمانہ کارناموں کی تفصیل رکھ دیتے اور اُن کی ایک اور تکنیک مبینہ مجرموں کی بیویوں اور گرل فرینڈز سے دوستی کرنا تھی،
ایلن پنکرٹن
Getty Images
ایلن پنکرٹن جاسوسوں کی اپنی ٹیم کے ہمراہ، عقب میں پول کر تھام کر کھڑی خاتون کیٹ وارن ہیں

یہ 1856 کی بات ہے جب کیٹ وارن نامی ایک خاتون امریکہ میں حال ہی میں قائم ہونے والی ایک جاسوس ایجنسی ’پنکرٹن‘ کے دفتر میں داخل ہوئیں۔ یہ خاتون نوکری کی تلاش میں تھیں مگر ساتھ میں اُن کی ایک شرط یہ تھی کہ وہ دفتر میں بیٹھ کر فقط فائلوں پر کام کرنا نہیں چاہتیں بلکہ بطور جاسوس فیلڈ میں جا کر بڑے اور سنگین جرائم کی تحقیقات کرنا چاہتی ہیں۔

کیٹ کو بلآخر اس ایجنسی میں نوکری مل گئی اور اس طرح وہ امریکہ کی پہلی خاتون جاسوس بن گئیں۔

اگرچہ ان کا بطور جاسوس کیریئر صرف 12 سال پر محیط تھا لیکن اس عرصے میں انھوں نے بڑے بڑے کام کیے جن میں امریکی صدر ابراہم لنکن کی جان بچانا بھی شامل ہے۔

ایک صدر کی جان بچانے والی خاتون جاسوس کے طور پر انھیں بہت شہرت ملی لیکن اس کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں کہ ’پنکرٹن‘ نامی جاسوس ایجنسی میں شمولیت سے قبل وہ کیا کرتی تھیں یا ان کی شخصیت کیسی تھی؟

ایک نیا دفتر

یہ 1850 کی بات ہے جب ایلن پنکرٹن نامی شخص نے امریکہ میں اپنی نوعیت کی پہلی جاسوس ایجنسی ’پنکرٹن نیشنل ڈیٹیکٹیو ایجنسی‘ کی بنیاد رکھی۔

یہ ایجنسی سکیورٹی سے متعلق مختلف نوعیت کی خدمات فراہم کرتی تھی۔

اس ایجنسی نے اپنی سرگرمیوں کو سرانجام دینے کے لیے جدید اور موثر تکنیکوں کا استعمال کیا۔ اگرچہ آج جاسوسی کی سروسز فراہم کرنی والی کمپنیاں عام ہیں مگر اس دور میں یہ ایک بالکل نئی بات تھی۔

اگرچہ آج ہمارے لیے یہ معمول کی بات ہے مگر ہمیں اس دور کو یاد رکھنا ضروری ہے جب یہ ایجنسی قائم کی گئی کیونکہ امریکہ میں یہ وہ دور تھا جس میں ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ والا قانون رائج تھا یعنی قانون کی عملداری نہ ہونے کی برابر تھی۔

اس ایجنسی میں بطور جاسوس کام کرنے والوں کی بنیادی ذمہ داری یہ ہوتی کہ قانون توڑنے والوں کو پکڑنا اور مسافر ٹرینوں کو ممکنہ حملہ آوروں اور لٹیروں سے بچانا تھا۔

ایجنسی کے قیام کے چھ سال بعد جاسوسوں کی خدمات کی مانگ اتنی بڑھ گئی کہ ایجنسی کے مالک ایلن پنکرٹن کو شکاگو کے اخبار میں نوکریوں کا اشتہار دینا پڑا اور یہی اشتہار دیکھ کر کیٹ وارن اُن کے آفس پہنچی تھیں۔

کیٹ وارن
Getty Images

’مکمل کنٹرول‘

ایجنسی بنانے والے ایلن پنکرٹن کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے اور ان ہی کی تحریروں سے ہمیں  کیٹ وارن کی شخصیت کا کچھ اندازہ ہوتا ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ کس طرح ایک ’دبلی پتلی، اوسط قد سے تھوڑی اونچی، اپنی حرکات و سکنات میں خوبصورت نظر آنے والی اور پُرسکون‘ خاتون اُن کے دفتر آئیں اور بتایا کہ وہ بیوہ ہیں اور ساتھ ہی پوچھا کہ کیا انھیں بطور جاسوس نوکری پر رکھا جا سکتا ہے۔‘

پنکرٹن نے وارن کے بارے میں اپنے پہلے تاثرات کچھ یوں بیان کیے: ’اُن کی آنکھیں بہت پُرکشش، گہرے نیلے رنگ کی اور شعلہ بار تھیں۔ اس کا چہرہ کچھ اس طرح کا تھا کہ اس سے ایمانداری واضح تھی، ایک ایسا چہرہ جس سے یہ واضح تھا کہ اگر آپ کسی تکلیف یا مصیبت میں مبتلا ہوں کہ آپ اس چہرے والی شخصیت پر اعتماد کر سکتے ہیں اور بات چیت کر کے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر سکتے ہیں۔‘

پنکرٹن کے مطابق اگرچہ (اس دور میں) خواتین کو جاسوس کے طور پر ملازمت دینے کا رواج نہیں تھا لیکن انھوں نے کیٹ وارن نے پوچھا کہ وہ اس کردار میں کیا  کچھ کر سکتی ہیں؟

کیٹ وارن نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر جواب دیا کہ ’ایک عورت کے طور پر وہ بہت سی ایسی جگہوں پر جا کر ایسے راز لا سکتی ہیں جن تک رسائی مرد جاسوسوں کے لیے ناممکن ہے۔‘

پنکرٹن نے اپنے نوٹس میں لکھا کہ ’اُس (کیٹ وارن) نے بہت سی ایسی وجوہات بتائیں کہ وہ کیوں اور کس طرح ان کی ایجنسی کے لیے کارآمد ہو سکتی ہیں۔‘

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ آج کا دور نہیں بلکہ 1856 تھا، لہذا یہ تعجب کی بات نہیں کہ ایلن پنکرٹن نے کیٹ کو دوٹوک انداز میں جواب دیا کہ ’وہ ثابت قدمی اور فیصلہ لینے کی مردانہ صفات کی مالک نظر آتی ہیں اور یہ کہ وہ اس پر تھوڑا قابو پائیں۔‘

اور کیٹ وارن نے اپنا مقصد حاصل کر لیا یعنی انھیں یہ نوکری مل گئی۔ پنکرٹن لکھتے ہیں کہ ’میں نے کم از کم اسے آزمانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔‘

ایلن پنکرٹن
Getty Images
ایلن پنکرٹن

ایک مختصر لیکن شاندار کیریئر

کیٹ وارن کو نمایاں ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ پنکرٹن نے انھیں پہلا کیس سونپنے کے بعد اُن کے بارے میں لکھا کہ ’وہ میری توقعات سے بھی بہتر تھیں اور میں نے جلد ہی انھیں ایک انمول اثاثہ سمجھنا شروع کر دیا۔‘

بات آگے بڑھتی گئی اور حساس معلومات حاصل کرنے کے لیے وہ شناخت، ملبوسات اور لہجے کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی قسمت کا حال بتانے والی یا امریکی صدر کی بہن تک کا روپ دھار لیتیں۔

کیٹ وارن کے لیے یہ بہت آسان بن چکا تھا کہ اُن کے پس منظر سے بےخبر جرائم پیشہ مرد شیخی بگھارنے کے چکر میں ان کے سامنے اپنے مجرمانہ کارناموں کی تفصیل رکھ دیتے اور اُن کی ایک اور تکنیک مبینہ مجرموں کی بیویوں اور گرل فرینڈز سے دوستی کرنا تھی،  وہ اُن کا اعتماد حاصل کرتیں اور وہ معلومات حاصل کر لیتیں جو ان کے جرائم پیشہ شوہروں یا پارٹنرز نے راز داری کے تحت ان کے ساتھ شیئر کی ہوتیں۔

سنہ 1858 میں انھوں نے اپنے کریئر میں ایک اہم سنگ میل عبور کیا جب ’ایڈمز ایکسپریس‘ نامی ایک بڑی کمپنی کو غبن کے سلسلے کا سامنا کرنا پڑا مگر مشکل یہ تھی کہ وہ غبن کرنے والے مجرم کا پتا نہیں چلا پا رہے تھے، وہ مجرم جو پہلے ہی ہزاروں امریکی ڈالر سے زیادہ کی رقم غبن کر چکا تھا۔

کمپنی کے سربراہ نے ایلن پنکرٹن کو کوڈ زبان میں یہ پیغام لکھ بھیجا: ’کیا آپ مجھے ایک آدمی، آدھا گھوڑا اور آدھا مگرمچھ بھیج سکتے ہیں؟ مجھے ایک بار پھر کاٹا گیا ہے! آپ اسے کب تک بھیج سکتے ہیں؟‘

ایلن پنکرٹن نے مجرم کا پتا چلانے کے لیے کیٹ وارن کو بھیجا۔ وارن نے اس جرم کا سراغ لگانے کے لیے ’میڈم امبرٹ‘ کی شناخت کو اپنایا، جو ایک ایسی خاتون تھی جس کا شوہر جیل میں تھا۔ اس کہانی کے ساتھ، کیٹ نے ملزم کی بیوی سے دوستی کی، ضروری شواہد اکٹھے کیے  اور اس بات کو یقینی بنایا کہ غبن کی گئی رقم کا کثیر حصہ واپس کمپنی کو مل گیا۔

جاسوسی کے میدان میں کیٹ وارن کے کام کے اچھے نتائج کو دیکھتے ہوئے، ایلن پنکرٹن نے 1860 میں ’فیمیل ڈیٹیکٹیوز آفس‘ کا قیام کیا اور کیٹ کو اس کا انچارج بنا دیا۔

کیٹ وارن کی موت 1868 میں نمونیا میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ہوئی اور اپنی زندگی کے آخری دنوں تک وہ جاسوسی کے گُر سیکھنے میں بہت سی دوسری خواتین کی مدد کرتی رہیں۔

لنکن
Getty Images
صدر لنکن درمیان میں کھڑے ہیں جبکہ ان کی بائیں جانب پنکرٹن کھڑے ہیں

بالٹیمور پلاٹ

ان کی زندگی کا مشہور مشن امریکی صدر لنکن کے قتل کی کوشش کو ناکام بنانا تھا۔ نومبر 1960 میں لنکن کے بطور صدر انتخاب کے بعد انھوں نے اگلے سال 4 مارچ کو حلف لینا تھا لیکن جنوب کے لوگوں کا ایک گروپ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تیار تھا کہ ایسا ممکن نہ ہو۔

صدر لنکن کے اس پروگرام کی بھنک اس گروہ کو بھی مل چکی تھی اور انھوں نے پلان بنایا کہ جیسے ہی لنکن بالٹیمور میں پہنچیں گے تو عین اسی وقت انھیں قتل کر دیا جائے گا۔

ایلن پنکرٹن کو اس منصوبے کا اپنے ذرائع سے علم ہوا تو وہ بالٹیمور میں تحقیقات کرنے پہنچ گئے اور اس منصوبے کی اطلاع لنکن کے ساتھ سفر کرنے والے وفد کے ایک رکن نارمن بی جڈ کو بھی کر دی۔

اپنی کتاب میں انھوں نے لکھا کہ انھوں نے ’اس منصوبے کی اطلاع کسی اور کو نہیں بتائی تاکہ بے جا پریشانی پیدا نہ ہو۔‘

اس علاقے میں پہلے سے موجود مردوں جاسوسوں کی ٹیم کے ساتھ ساتھ کیٹ  وارن بھی موجود تھی  جو اس وقت ایجنسی میں سپرینٹنڈنٹ کے عہدے پر فائز تھیں۔

جاسوسوں کے اس گروپ نے نہ صرف منصوبے کی مزید تفصیلات حاصل کیں بلکہ لنکن کی حفاظت کے لیے ایک خفیہ کارروائی بھی کی۔ انھوں نے جھوٹے ناموں کا استعمال کیا اور مختلف بھیس بدلے اور اس طرح وہ تخریب کاروں کے گروہ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

پنکرٹن نے کیٹ وارن کے بارے میں لکھا کہ ’وہ کئی دن پہلے اس علاقے میں پہنچ چکی تھیں اور سازش کرنے والوں کی بیویوں اور بیٹیوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں کافی حد تک پیشرفت کر چکی تھیں۔‘

انھوں نے کمال چالاکی اور ذہانت سے سازش کرنے والوں سے متعلق شواہد، نظام الاوقات اور اس طریقہ کار سے متعلق آگاہی حاصل کی جس کے تحت وہ لنکن کو ہلاک کرنا چاہتے تھے۔

بالٹیمور ڈاؤن ٹاؤن سے گزرنے کے دوران تخریب کاروں نے حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ اب ان جاسوسوں کے لیے لنکن کی حفاظت کرنے کا وقت تھا۔

صدر لنکن کو سازش کا علم تھا مگر انھیں یہ علم بھی تھا اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے جاسوس بھی موجود ہیں۔

اُس رات جب لنکن ایک میٹنگ میں تھے تو کسی نے اس کے کندھے پر تھپکی دی۔ یہ ایک  سگنل تھا۔ یہ سگنل ملنے کے بعد وہ اس کمرے سے نکل گئے جہاں ان کی پنسلوینیا کے گورنر اینڈریو جی کرٹن سے بات چیت ہو رہی تھی۔

اس کے بعد لنکن، جو اس وقت امریکہ میں سب سے زیادہ پہچانے جانے والے اور کرشماتی شخصیت کے مالک تھے، نے بوڑھے شخص کا بھیس بدلا جس کی بہن کیٹ وارن تھیں۔ کیٹ وارن نے اپنے ’بھائی‘ یعنی لنکن کے ہمراہ ریل کار کے آخری ڈبے میں سفر کیا۔

اس سب کے دوران بالٹیمور میں ٹیلی گراف کی تمام لائنیں کاٹ دی گئیں تاکہ سازش کرنے والوں کے درمیان کسی قسم کی بات چیت کو روکا جا سکے۔

تمام راستے، کیٹ وارن اُن کے ساتھ بیٹھی رہیں اور واشنگٹن ڈی سی تک کے پورے سفر میں انھوں نے پلک نہیں چھپکی یعنی وہ جاگتی رہیں اور یہیں سے پنکٹرٹن ایجنسی کا نعرہ معروف ہوا کہ ’ہم کبھی نہیں سوتے۔‘

کیٹ وارن صدر کو بچانے کے اس کامیاب منصوبے کا حصہ تھیں جس میں انھوں نے بھیس بدل کر حصہ لیا اور لنکن کو بحفاظت واشنگٹن ڈی سی پہنچایا۔

تاہم اس واقعے کے صرف چار سال بعد فورڈ تھیٹر میں لنکن کو بالآخر قتل کر دیا گیا تھا۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
سائنس اور ٹیکنالوجی
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.