اچانک عذاب
Poet: محمد زریاب خان By: Muhammad zaryab khan , Islamabadاُس کے بارے مجھے آج بھی خواب آتے ہیں
جن میں میرے کئی سوالوں کے جواب آتے ہیں
مجھے چھوڑ کر اچھا نہیں کیا تم نے۔تمہاری غلطی
۔مجھے علم ہے اکثر زندگی میں ایسے حالات آتے ہیں
تجھے پانے کی تمنا ہے تو سہی مگر اب چپ ہوں
ورنہ ہنرتو ہم کو بھی بے حساب آتے ہیں
تو نے مجھے تفریق کیا اور ضرب اپنی آنا کو
یہ سب تو مان لیا کیا آپ کو وقت کے حساب آتے ہیں
لاکھ مَنا چکا تمہیں مگر اب نہیں۔تمہاری باری
کیسے روٹھتے ہیں؟ یہ طریقے ہمیں بھی جناب آتے ہیں
میں کوئی جون تو نہ تھا۔تو پھر کیوں زریاب
ہم جیسے شاعروں پر ہی ایسے اچانک عذاب اتے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






