جانے کیوں برباد ہونا چاہتا ہے

Poet: اشک الماسBy: راحیل, Karachi

جانے کیوں برباد ہونا چاہتا ہے
صورت فرہاد ہونا چاہتا ہے

ذہن سے آخر میں اب تھک ہار کر
میرا دل آباد ہونا چاہتا ہے

آسماں والے یہ سن کر ہنس پڑے
آدمی آزاد ہونا چاہتا ہے

ہر جگہ تعمیر کر کے اک ارم
ہر کوئی شداد ہونا چاہتا ہے

سانحہ یہ ہے کہ اک بلبل کا دل
دامن صیاد ہونا چاہتا ہے

ہو کے منصف تخت پہ اب جلوہ گر
واقف روداد ہونا چاہتا ہے

Rate it:
Views: 240
13 Jan, 2022