خود سے ہے ہمیں نہ ہی اور لوگوں سے پیار ہے
Poet: Mehar Ali By: Mehar Ali, sahiwalخود سے ہے ہمیں نہ ہی اور لوگوں سے پیار ہے
ہمیں منزل سے بڑھ کر راستوں سے پیار ہے
تیز دھوپ میں بدن جن کےجلتےہیں ہمارےلیے
ہمیں ان لوگوں سے نہیں غیروں سے پیار ہے
جو فاصلے دلوں میں محبت کو بڑھا دیتے ہیں
خود سے بڑھ کر ہمیں ان فاصلوں سے پیار ہے
رنج وغم بڑھ گیا ہے یوں ہی نہیں زمانے میں
ہمیں ضروریات سے بڑھ کرخواہشوں سے پیار ہے
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






