دادا کی گھڑی

Poet: طارق اقبال حاوی
By: Tariq Iqbal Haavi, Lahore

کچھ پرانی سنبھالی چیزوں میں پڑی نکلی
پکڑ کے چوما جو میرے دادا کی گھڑی نکلی

اٹھا کے فوراً ہی ہاتھ میں ڈالی میں نے
مجھے نہ آئی مگر پھر بھی پھنسالی میں نے

یہی حرکت میں بچپن میں کیا کرتا تھا
گھڑی یہ چھین میں دادا سے لیا کرتا تھا

بہت پیار سے کہتے تھے اپنے پوتے سے
میرے دادا کے الفاظ پھر یہ ہوتے تھے

دے دے پتر، یہ تیرے دادے کی گھڑی ہے
ہاتھ چھوٹے ہیں تیرے، یہ تجھے بہت بڑی ہے

میرے ہاتھ پیراب تو بڑھ گئے دادا
مگر تم دیکھنے سے پہلے بچھڑ گئے دادا

تیری نشانی سے اُلفت تیری یاد آئی
بھر گئی آنکھ میری شفقت تیری یاد آئی

تمھاری یاد ہمارے دلوں میں کامل رکھے
رب تم کو محبوب لوگوں میں شامل رکھے۔ ( آمین)


 

Rate it:
18 Sep, 2019

More Life Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Tariq Iqbal Haavi
میں شاعر ہوں ایک عام سا۔۔۔
www.facebook.com/tariq.iqbal.haavi
.. View More
Visit 128 Other Poetries by Tariq Iqbal Haavi »

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City