سب کو اپنے ذہن سے جھٹکا خود کو یاد کیا

Poet: انجم سلیمیBy: عرفان آصف, Islamabad

سب کو اپنے ذہن سے جھٹکا خود کو یاد کیا
لیکن ایسا سب کچھ لٹ جانے کے بعد کیا

اس کو اس کی اپنی قربت نے سرشار رکھا
مجھے تو شاید میرے ہجر نے ہی برباد کیا

میں بھی خالی ہو کر اپنے گھر لوٹ آیا ہوں
اس نے بھی اک ویرانے کو جا آباد کیا

کس شفقت میں گندھے ہوئے مولا ماں باپ دیے
کیسی پیاری روحوں کو میری اولاد کیا

عشق میں انجمؔ لے ڈوبی ہے تھوڑی سی تاخیر
جنموں پہلے جو واجب تھا وہ مابعد کیا

Rate it:
Views: 208
25 Nov, 2021