شام کے وقت چراغوں کا حوالہ بھی تو ہو
Poet: By: وشمہ خان وشمہ, منیلاشام کے وقت چراغوں کا حوالہ بھی تو ہو
دیدہء ترہوں کوئی دیکھنے والا بھی تو ہو
ایک امید مرے سپنے میں قائم ہے ابھی
تیرہ دنیا میں مھبت کا اجالا بھی تو ہو
میں اکیلی ہوں ترے بعد دیارِ جاں میں
تیری یادوں کا مرے واسطے ہالہ بھی تو ہو
میں تو حق بات کی قائل ہوں زمانے بھر میں
میرے ہونٹوں کے لیے ضبط کا تالا بھی تو ہو
ہر طرف چہرے نظر آتے ہیں مصنوعی مجھے
ان سفیدوں میں کوئی رنگ کا کالا بھی تو ہو
ہر سہولت تو ترے پاس ہے لیکن وشمہ
تیری قسمت میں یہ عزت کا نوالہ بھی تو ہو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






