عرصہ ہوا آتش عشق کو بجھائے بیٹھا ہوں

Poet: H.M. Salman Amin
By: H.M. Salman Amin,

عرصہ ہوا آتش عشق کو بجھائے بیٹھا ہوں
اب تو اُس بےوفا کا چہرا بھی بھُلائے بیٹھا ہوں

جب دیکھنے لگتا ہوں اُس کی کوئی پرانی تصویر
تُو کہتا ہے دل مرا کیوں زخموں کو بڑھائے بیٹھا ہوں

بسایا تھا جن کو اپنے دل میں اتنی چاہ سے
اسکی یادوں سے رنگین کتابوں کو جلائے بیٹھا ہوں

جاتی نہیں اُس کی خوشبو مرے وجودِ بیقراں سے
پر پھر بھی اُسکو اپنی مرادوں سے مٹائے بیٹھا ہوں

جیتنے ستم ڈھائے ہیں اُس نے سب یاد ہیں مجھے
اب تو صرف رحمت خداوندی کی آس لگائے بیٹھا ہوں

زخموں سے چور بدن کو بستر پہ لٹائے بیٹھا ہوں
طبیب کے انتظار میں سب دوائیں آزمائے بیٹھا ہوں

وہ تو خوش ہے مجھ سے دور ہو کے بھی اپنی زندگی میں
پھر نجانے کیوں میں زخموں کی دوکاں سجائے بیٹھا ہوں

جب پوچھتے ہیں میرے احباب احوال انکا مجھ سے
تو ہوتا ے جواب میرا میں تو ان کو دفنائے بیٹھا ہوں

اے سلمان آزمائش میں صبر سے بہتر کچھ نہیں
آگے بڑھنے کی کوشش میں خود کو تھکائے بیٹھا ہوں
 

Rate it:
25 Mar, 2020

More Sad Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: H.M. Salman Amin
Visit 13 Other Poetries by H.M. Salman Amin »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City