فنکار ہے تو ہاتھہ پہ سورج سجا کے لا

Poet: Mohsin NaqviBy: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

فنکار ہے تو ہاتھہ پہ سورج سجا کے لا
بجھتا ہوا دیا نہ مقابل ہوا کے لا

دریا کا انتقام ڈبو دے نہ گھر تیرا
ساحل سے روز روز نہ کنکر اٹھا کے لا

اب اختتام کو ہے سخی حرف التماس
کچھہ ہے تو اب وہ سامنے دست دعا کے لا

پیماں وفا کے باندھ مگر سوچ سوچ کر
اس ابتدا میں یوں نہ سخن انتہا کے لا

آرائش جراحت یاراں کی بزم میں
جو زخم دل میں ہیں سبھی تن پر سجا کے لا

تھوڑی سی اور موج میں آ اے ہوائے گل
تھوڑی سی اس کے جسم کی چرا کے لا

گر سوچنا ہیں اہل مشیت کے حوصلے
میداں سے گھر میں ایک تو میت اٹھا کے لا

محسن اب اس کا نام ہے سب کی زبان پر
کس نے کہا کہ اس کو غزل میں سجا لا

Rate it:
Views: 7531
23 Nov, 2013