میں محبت کا جلا ہوں

Poet: Madni ali
By: Madni Ali, Multan

میں محبت کا جلا ہوں تُم اناء کی بات کرتے ہو
وعدہ تو فقط تماشا ہے تُم وفا کی بات کرتے ہو

خود کو چھوڑ دینے سے ہی خود کا پتہ چلتا ہے
ہے فناء کی خواہش،تُم بقاء کی بات کرتے ہو

ہوتے اگر کبھی بیمار تو شفاء کو بھی مان لیتے ہم
ہم بیمار نہیں اسیر ہیں،تُم شفاء کی بات کرتے ہو

چلو مان لیتے ہیں کہ محبت بھی خطا ہے اِک طرح سے
ہے نفرت بھی ہزار خطا،تُم خطا کی بات کرتے ہو

کُچھ پہنچے ہیں اِس حال میں کہ دعائیں بھی بے اثر ہیں
ہے ہر آه بھی بد دعا،تُم دعا کی بات کرتے ہو

بے مطلب ہیں سزا کی باتیں،تُم کیا سزا دو گے
ہے عمر بھی اک سزا،تُم سزا کی بات کرتے ہو

فرض کی کیا خبر،میں اب فرض شناس نہیں رہا
نمازِ عشق ہے ادا،تُم قضاء کی بات کرتے ہو

اُن کی نظریں دردِ سر بنی ہیں اب ہو گا کیا علی
ہیں کئی نظریں بے حیا،تُم حیاء کی بات کرتے ہو

Rate it:
26 Jul, 2020

More Sad Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Madni Ali
Visit 3 Other Poetries by Madni Ali »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City