نہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورت

Poet: سکندر عرفانBy: سکندر, Kolkata

نہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورت
زندگی اپنی لگے راہ گزر کی صورت

خدمت خلق کا جذبہ لئے ہر موسم میں
مجھ کو رہنا ہے بہرحال شجر کی صورت

خشک پتوں کی طرح صحرا نوردی میں رہے
ہم نے مدت سے کہاں دیکھی ہے گھر کی صورت

ہیں تعاقب میں مرے جھوٹی انا کے سائے
کاش ہو جائے کوئی ان سے مفر کی صورت

بوڑھے ماں باپ نے رشتوں کے حسیں میلے میں
کھو دی ہے جانے کہاں لخت جگر کی صورت

وہ بنا پائے نہ عرفانؔ اجالوں میں شناخت
جو تھے مشہور اندھیروں میں قمر کی صورت

Rate it:
Views: 202
25 Nov, 2021