وہ فریب و مکر تھا
Poet: Naeem Ahmed Malik By: Naeem Ahmed Malik, Sambrialمجھے جس نے اپنا بنا تھا وہ قرار خود نہ نبھا سکا
بہ حدیقہ ہائے موانست نہ وفا کی پینگ بڑھا سکا
ہوئےں بے جا رنجشیں کیوں اسے کیا صید تیر جفا مجھے
بڑی دل نے پائےں اذیتیں نہ جفا سے اس کی بچا سکا
بڑی تند خوئی سے شوخ نے مجھے سوز و درد و الم دیا
نہ ہی کسی کے کام میں آ سکا نہ ہی اپنی بگڑی بنا سکا
وہ کما ن ابرو کھنچی کھنچی بہ مفارقت وہ گھٹن گھڑی
نہ میں کوئی عذر ہی کر سکا نہ ہی عرض اپنی سنا سکا
وہ فریب و مکر تھا بے گماں جو محبت اس سے ہوئی عیاں
بکمال خوئے وفا گری نہ میں اس کے دل میں سما سکا
اسے خواہ کوئی وفا کہے ےا صلاح ترک کہے مجھے
کہ میں ا س غر ور شعار کو نہ جدائی میں بھی بھلا سکا
جو دیا حسین اُمید کا تھا جلایا دل کی منڈیر پر
بڑی تےز آندھی سے بجھ گےا جسے پھر کبھی نہ جلا سکا
ہوئی ایسی تیرگی بخت کو کسی زُلف برہم مزاج سے
نہ ہی عزم کا ہوا تکما نہ ہی صحیح راستہ پا سکا
ہوئےں تشنہ کامی کی تلخیاں ہوا راز مخفی مرا عیاں
سر بزم کیوں ہی نہ شرم ہو کہ نہ حال اپنا چھپا سکاییااابببببب
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






