کوئی ثبوت جرم جگہ پر نہیں ملا

Poet: عباس داناBy: عباس, Sargodha

کوئی ثبوت جرم جگہ پر نہیں ملا
ٹوٹے پڑے تھے آئنے پتھر نہیں ملا

پتھر کے جیسی بے حسی اس کا نصیب ہے
وہ قوم جس کو کوئی پیمبر نہیں ملا

جب تک وہ جھوٹ کہتا رہا سر پہ تاج تھا
سچ کہہ دیا تو تاج ہی کیا سر نہیں ملا

ہم رات بھر جلیں بھی تمہیں روشنی بھی دیں
ہم کو چراغ جیسا مقدر نہیں ملا

شہر ستم بھی جشن اماں مت منا ابھی
شاید ستم گروں کو ترا گھر نہیں ملا

ماں باپ کی دعاؤں سے بڑھ کر جہیز میں
دلہن کو اور کوئی بھی زیور نہیں ملا

داناؔ وہ اب بھی آتا ہے تنہائیوں میں یاد
دنیا کی بھیڑ میں جو بچھڑ کر نہیں ملا

Rate it:
Views: 224
25 Nov, 2021