گڑیا کی شادی

Poet: مقدس مجید
By: Muqadas Majeed, Kasur

میری یہ نظم ان لڑکیوں کے نام جن کو گڑیا کی طرح بچپن میں ہی بیاہ دیا جاتا ہے!!!

"گڑیا کی شادی"

جس طرح سے کبھی، میں بیاہ گڑیا کا رچاتی تھی
اپنی سب سکھیوں، سہیلیوں کو بخوشی بلاتی تھی
پھر اپنی گڑیا کو اک سرخ لباس پہناتی تھی
بندیا، چوڑیوں اور جھمکوں سے اسکو خوب سجاتی تھی
مگر اس کو یوں سجاتے سجاتے، یہ کبھی نہ سوچتی تھی
کہ اس گڑیا ہی کی طرح، میں بھی سجا دی جاؤں گی
چاہے چاہوں یا نہ چاہوں، ڈولی میں بٹھا دی جاؤں گی

آج یہ جو لوگ میری سجاوٹ کو سراہتے ہیں
خوف کی سرخ میری آنکھوں میں انکو کیوں نہیں دکھتی؟
یہ جو میرے سر پر اک حسین سرخ دوپٹہ ہے
یہ میرے خوابوں کے لہو سے رنگا ہوا کیوں لگتا ہے؟
یہ لوگوں کے جھومنے اور گانے کی صدائیں
میری آواز کو کیوں کھا رہی ہیں؟
جو مجھ جیسیوں کے بچپن کی میّت کو قبرستان لے جائے
یہ دریچے سے دکھتی ڈولی مجھے، وہ چارپائی کیوں لگتی ہے؟
یہ قاضی ایک ہی وقت میں دو کام جانے کیسے کرتا ہے؟
نکاح اور بچپن کا جنازہ ایک ساتھ پڑھاتا ہے

میں روئی اور کپڑے کی بنی ہوئی گڑیا نہیں ہوں ابّا
کہ مجھ میں خواب و جذبات بھرا اک دل دھڑکتا ہے
 

Rate it:
18 Apr, 2020

More Life Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Muqadas Majeed
Visit 14 Other Poetries by Muqadas Majeed »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City