زندگی یوں ہوئی بسر تنہا

Poet: نذیر تبسمBy: عابد, Quetta

زندگی یوں ہوئی بسر تنہا
جیسے وادی میں اک شجر تنہا

خوں طلب خواہشوں کے جنگل میں
کیسے کاٹو گے یہ سفر تنہا

چاندنی پتھروں پہ سوتی ہے
چاند پھرتا ہے در بدر تنہا

اپنی شاخوں کے ٹوٹ جانے پر
پیڑ روتے ہیں رات بھر تنہا

خوشبوؤں کی تلاش میں تتلی
اڑ رہی ہے نگر نگر تنہا

کون آئے گا اب نذیرؔ یہاں
دور تک حد رہ گزر تنہا

Rate it:
Views: 236
21 Jan, 2022