اتنا کیوں چلیئے آپ نازون سے اکڑ کر

Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, MPK

 اتنا کیوں چلیئے آپ نازون سے اکڑ کر
کون سا ہم مر گئے ہیں تم سے بچھڑ کر

اتنا غرور حسن پر اپنے کس لیے؟
اور وہ اترانا بارہا اکڑ اکڑ کر۔

آہ کیسے بھول گیا تو پیار کے لمحے؟
وہ ساتھ ساتھ میں چلنا انگلی پکڑ کر۔

آہ کیسے بھول گیا تو پیار کا ساون۔
وہ بارش میں بھیگنا آنچل مٰن لپٹ کر

آہ کیسے بھول گیا تو اپنے قریب آنا؟
اور لپٹنا سمٹنا مجھ سے یار جکڑ کر

کیا؟ ان پلوں کی تم کو یاد نہیں آتی؟
وہ پیار کرنا باہم باھوں میں جکڑ کر؟

آہ اتنی بے رخی اچھی نہیں صاحب۔
کیا ملے گا تم کو اسد سے بچھڑ کر؟

Rate it:
Views: 256
02 Dec, 2021