اتنا کیوں چلیئے آپ نازون سے اکڑ کر
Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, MPK اتنا کیوں چلیئے آپ نازون سے اکڑ کر
کون سا ہم مر گئے ہیں تم سے بچھڑ کر
اتنا غرور حسن پر اپنے کس لیے؟
اور وہ اترانا بارہا اکڑ اکڑ کر۔
آہ کیسے بھول گیا تو پیار کے لمحے؟
وہ ساتھ ساتھ میں چلنا انگلی پکڑ کر۔
آہ کیسے بھول گیا تو پیار کا ساون۔
وہ بارش میں بھیگنا آنچل مٰن لپٹ کر
آہ کیسے بھول گیا تو اپنے قریب آنا؟
اور لپٹنا سمٹنا مجھ سے یار جکڑ کر
کیا؟ ان پلوں کی تم کو یاد نہیں آتی؟
وہ پیار کرنا باہم باھوں میں جکڑ کر؟
آہ اتنی بے رخی اچھی نہیں صاحب۔
کیا ملے گا تم کو اسد سے بچھڑ کر؟
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






