سوال گھر نہیں بنیاد پر اٹھایا ہے

Poet: راحت اندوریBy: Samuel, karachi

سوال گھر نہیں بنیاد پر اٹھایا ہے
ہمارے پاؤں کی مٹی نے سر اٹھایا ہے

ہمیشہ سر پہ رہی اک چٹان رشتوں کی
یہ بوجھ وہ ہے جسے عمر بھر اٹھایا ہے

مری غلیل کے پتھر کا کارنامہ تھا
مگر یہ کون ہے جس نے ثمر اٹھایا ہے

یہی زمیں میں دبائے گا ایک دن ہم کو
یہ آسمان جسے دوش پر اٹھایا ہے

بلندیوں کو پتہ چل گیا کہ پھر میں نے
ہوا کا ٹوٹا ہوا ایک پر اٹھایا ہے

مہا بلی سے بغاوت بہت ضروری ہے
قدم یہ ہم نے سمجھ سوچ کر اٹھایا ہے

Rate it:
Views: 667
04 Oct, 2021