بیر دنیا سے قبیلے سے لڑائی لیتے

Poet: راحت اندوریBy: عاقب فیضان, Abbottabad

بیر دنیا سے قبیلے سے لڑائی لیتے
ایک سچ کے لئے کس کس سے برائی لیتے

آبلے اپنے ہی انگاروں کے تازہ ہیں ابھی
لوگ کیوں آگ ہتھیلی پہ پرائی لیتے

برف کی طرح دسمبر کا سفر ہوتا ہے
ہم اسے ساتھ نہ لیتے تو رضائی لیتے

کتنا مانوس سا ہمدردوں کا یہ درد رہا
عشق کچھ روگ نہیں تھا جو دوائی لیتے

چاند راتوں میں ہمیں ڈستا ہے دن میں سورج
شرم آتی ہے اندھیروں سے کمائی لیتے

تم نے جو توڑ دیے خواب ہم ان کے بدلے
کوئی قیمت کبھی لیتے تو خدائی لیتے

Rate it:
Views: 544
01 Dec, 2021