نئے سفر کا جو اعلان بھی نہیں ہوتا

Poet: راحت اندوریBy: Sam, Swat

نئے سفر کا جو اعلان بھی نہیں ہوتا
تو زندہ رہنے کا ارمان بھی نہیں ہوتا

تمام پھول وہی لوگ توڑ لیتے ہیں
وہ جن کے کمروں میں گلدان بھی نہیں ہوتا

خموشی اوڑھ کے سوئی ہیں مسجدیں ساری
کسی کی موت کا اعلان بھی نہیں ہوتا

وبا نے کاش ہمیں بھی بلا لیا ہوتا
تو ہم پہ موت کا احسان بھی نہیں ہوتا

Rate it:
Views: 415
04 Oct, 2021