انا کے موڑ پر سوچا نہیں ہے

Poet: نذیر تبسمBy: عبید شاہ زیب, Multan

انا کے موڑ پر سوچا نہیں ہے
پلٹ کر پھر اسے دیکھا نہیں ہے

ڈرو اس عہد کے آئینہ گر سے
وہ گونگا ہے مگر اندھا نہیں ہے

میں جس میں ڈوب جانا چاہتا ہوں
وہ دریا ہے مگر گہرا نہیں ہے

اب اس موضوع پر کیا بحث کرنا
تمہارا وہ لب و لہجہ نہیں ہے

میں خود لفظوں کی بازی کھیلتا ہوں
مگر اس بات کا موقع نہیں ہے

ہمیشہ کی طرح محتاط ہے وہ
مری دستک پہ بھی کھلتا نہیں ہے

Rate it:
Views: 229
21 Jan, 2022