نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گا

Poet: راحت اندوریBy: ساجد ہمید, Quetta

نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گا
ہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا

میں جانتا تھا کہ زہریلا سانپ بن بن کر
ترا خلوص مری آستیں سے نکلے گا

اسی گلی میں وہ بھوکا فقیر رہتا تھا
تلاش کیجے خزانہ یہیں سے نکلے گا

بزرگ کہتے تھے اک وقت آئے گا جس دن
جہاں پہ ڈوبے گا سورج وہیں سے نکلے گا

گزشتہ سال کے زخمو ہرے بھرے رہنا
جلوس اب کے برس بھی یہیں سے نکلے گا

Rate it:
Views: 658
15 Dec, 2021