بھلانا جو آساں ہوتا

Poet: طارق اقبال حاوی
By: Tariq Iqbal Haavi, Lahore

ہم بھی اسکو بھلا دیتے، بھلانا جو آساں ہوتا
سبھی یادیں مٹا دیتے، مٹانا جو آساں ہوتا

محبتیں ہیں وقف ھیں میری، اب بھی اسکے لٸے ورنہ
نیا کوٸی عشق جما لیتے، جمانا جو آساں ہوتا

پکڑ ہے عشق کی ایسی، کہ دامن تار تار ہے
جھٹ سے دامن چھڑا لیتے، چھڑانا جو آساں ہوتا

انا کے ہم بھی قیدی تھے، بلا کے وہ بھی ضدی تھے
خفا وہ شخص منا لیتے، منانا جو آساں ہوتا

اکثر ہی پوچھتے ہیں لوگ، کیا ہے بیوفا کا نام
نام تیرا بتا دیتے، بتانا جو آساں ہوتا

دکھا محفل میں کل مجھکو، لگا پھر سے بھلا دل کو
گلے اسکو لگا لیتے، لگانا جو آساں ہوتا

ہیں سب تقدیر کی باتیں، نہیں بس میں میرے حاوی
ستارے ہم ملا لیتے، ملانا جو آساں ہوتا

Rate it:
12 Feb, 2021

More Sad Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS
About the Author: Tariq Iqbal Haavi
میں شاعر ہوں ایک عام سا۔۔۔
www.facebook.com/tariq.iqbal.haavi
.. View More
Visit 158 Other Poetries by Tariq Iqbal Haavi »