یوں صدا دیتے ہوئے تیرے خیال آتے ہیں

Poet: راحت اندوریBy: Asher, karachi

یوں صدا دیتے ہوئے تیرے خیال آتے ہیں
جیسے کعبے کی کھلی چھت پہ بلال آتے ہیں

روز ہم اشکوں سے دھو آتے ہیں دیوار حرم
پگڑیاں روز فرشتوں کی اچھال آتے ہیں

ہاتھ ابھی پیچھے بندھے رہتے ہیں چپ رہتے ہیں
دیکھنا یہ ہے تجھے کتنے کمال آتے ہیں

چاند سورج مری چوکھٹ پہ کئی صدیوں سے
روز لکھے ہوئے چہرے پہ سوال آتے ہیں

بے حسی مردہ دلی رقص شرابیں نغمے
بس اسی راہ سے قوموں پہ زوال آتے ہیں

Rate it:
Views: 726
04 Oct, 2021