آج ہم کسی کی یاد کو دل میں بسا کے روۓ
Poet: M,masood By: M,masood, Nottinghamآج ہم کسی کی یاد کو دل میں بسا کے روۓ
کسی کی تصویر کو سینے سے لگا کے روۓ
جو وعدہ کیا تھا ہم نے بھی کبھی کسی سے
اب تو ہم اَس وعدے کو بھی نبھا کے بہت روۓ
کسی شخص کو ہماری ضروت نہیں تھی اب
لیکن ہم اَس شخص کو اپنی آرزو بنا کے روۓ
اَس نے ہمیں اپنے قدموں تلے بھی جگہ نہ دی
اب ہم اَسے اپنی پلکوں پر بیٹھا کے بہت روۓ
اب تو اَس کی باتیں ہم بار بار یاد کر کے روۓ
اَسی کے لیے ہی رب سے ہم فریاد کر کے روۓ
اَسی کی خوشی کے لیے چھوڑ دیا اَسے ہم نے
پھراَسی ہی کمی کا احساس کر کے بہت روۓ
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







