دو لاین والی شاعری

Poet: M,masood By: M,masood, Nottingham

(١)
،زندگی میں بھی سکوں ڈھونڈتے ہو دیوانو
زندگی کیا ہے جو چلتی ہوئی تلوار نہ ہو

(٢)

گلی میں ٹوٹی ہوئی چوڑیاں ملی تھیں صبح صبح
رات پھر کسی معصوم کی محبت پے زوال آیا ہوگا

(٣)

جب رات کی تنہائی میں بیخواب ہوں آنکھیں
اس وقت کی برسات و گھٹا اچّھی نہیں لگتی

(۴)

بیٹھے تھے آنکھ پونچھ کے، دامن نچوڑ کے
اب کیا کریں کہ پھر سے کوئی یاد آ گیا

(۵)

تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیں
ہم نے تمھاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا

(٦)

اِنکار ہی کر دیجیے اِقرار نہیں تو
اُلجھن ہی میں مرجائے گا بیمار نہیں تو

(٧)

اسے کہنا بہت نامراد شے ہے جنوں
اسے کہنا کہ بہت ہے مجھے جنوں اسکا

(٨)

پھر اسی کا خیال آیا ہے
وہ جو اپنا نہیں پرایا ہے

(٩)

خواب تو اسکی ملکیت ہیں مگر
نیند تم کس کے ھاتھ بیچ آئے

(١٠)

کہتے ہیں لوگ مجھ سے کوئی اور بات کر
لاؤں کہاں سے بات, تری بات کے سوا

(١١)

جب رات کی تنہائی میں بیخواب ہوں آنکھیں
اس وقت کی برسات و گھٹا اچّھی نہیں لگتی

(١٢)

اگرچہ فرطِ حیا سے نظر نہ آؤں اُسے
وہ رُوٹھ جائے تو سو طرح سے مناؤں اُسے

Rate it:
Views: 633
30 Sep, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL