آنسو

Poet: Sunny By: Umer Jawad Sunny, faisalabad

اب تک تو چرا لیتا تھا تیری آنکھ سے آنسو
ہاتھ سے خود انہیں پونچھو گے تو یاد کرو گے

شبنم کو گلابوں پہ چمکتا ہوا پا کر
ہنستی ہوئی پلکوں کی نمی یاد کرو گے

دیکھے جو کبھی فلک پہ ٹھرے ہوئے بادل
برسات نگاہوں میں رکی یاد کرو گے

ایثار خلوص وفا اور دعا بھی
کیا کیا دیے جاتا ہوں کبھی یاد کرو گے

Rate it:
Views: 618
30 Oct, 2008