آوَ کچھ غم بھلانے کی بات کرتے ہیں

Poet: جہانزیب کنجاہی دمشقی By: جہانزیب کنجاہی دمشقی, gujrat

بار بار بچھڑ جانے کی بات کرتے ہیں
ہمارا دل دکھانے کی بات کرتے ہیں

نہ جانے ہم میں کیا کمی لگی اُن کو
جو دامن چھڑانے کی بات کرتے ہیں

بہت رو چکے اپنے مقدر پہ ہم
آوَ کچھ غم بھلانے کی بات کرتے ہیں

سجدوں میں ہماری سلامتی مانگتے تھے
آج وہی ہمیں جلانے کی بات کرتے ہیں

خود کام یہ حسن والے لوگ جہاں
کس منہ سے سر کٹانے کی بات کرتے ہیں

Rate it:
Views: 681
19 Jan, 2014